نہیں ہو تم تو ہر شے اجنبی معلوم ہوتی ہے
بہارِ زندگی کانٹوں بھری معلوم ہوتی ہے
چراغِ زیست کی لو تھرتھراتی ہے چلے آؤ
مجھے ہر سانس اپنی آخری معلوم ہوتی ہے
بتاؤں کیا تمہاری چشمِ الفت کی اثر ریزی
رگ و پے میں اُترتی برق سی معلوم ہوتی ہے
نہیں ہو تم تو ہر شے اجنبی معلوم ہوتی ہے
بہارِ زندگی کانٹوں بھری معلوم ہوتی ہے
چراغِ زیست کی لو تھرتھراتی ہے چلے آؤ
مجھے ہر سانس اپنی آخری معلوم ہوتی ہے
بتاؤں کیا تمہاری چشمِ الفت کی اثر ریزی
رگ و پے میں اُترتی برق سی معلوم ہوتی ہے
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے
غمِ دنیا سے فرصت ہو گئی ہے
ہمارا کام ہے موتی لٹانا
ہمیں رونے کی عادت ہو گئی ہے
جہاں میں قد و قیمت میرے غم کی
تِرے غم کی بدولت ہو گئی ہے
موت سے پیار کریں عشق کا اظہار کریں
تذکرہ آؤ محبت کا سرِ دار کریں
چشمِ حیراں کو یہ ضد ہے تِرا دیدار کریں
دل یہ کہتا ہے تصور سے تِرے پیار کریں
پھر کوئی تازہ فسانہ نہ بنا لے دنیا
ورنہ ہم اور تِری چاہ سے انکار کریں
ہاتھوں میں لیے دل کے نذرانے نظر آئے
یوں بھی تِری راہوں میں دیوانے نظر آئے
فرزانوں کی بستی میں دیوانے نہیں دیکھے
دیوانوں کی بستی میں فرزانے نظر آئے
کلیوں کے چٹکتے ہی یہ کیسی فضا بدلی
دامن میں گلستاں کے ویرانے نظر آئے
مِرا انیس مِرا غم ہے تم نہ ساتھ چلو
تمہارا اور ہی عالم ہے تم نہ ساتھ چلو
عجب تضاد کا موسم ہے تم نہ ساتھ چلو
چھپائے شعلوں کو شبنم ہے تم نہ ساتھ چلو
خوشی تو غرقِ غمِ روزگار ہے میری
لبِ حیات پہ ماتم ہے تم نہ ساتھ چلو
دعاؤں میں ہو گا اثر ہوتے ہوتے
خبر ان کو ہو گی خبر ہوتے ہوتے
گلِ تر کو اک عمر گل ہی نہ جانا
ہوئی ہے نظر معتبر ہوتے ہوتے
سرِ شام ہی سے نگاہیں ہیں حیران
خدا جانے کیا ہو سحر ہوتے ہوتے
جا کر دعا بھی عرش سے ناکام آ گئی
اک اور اپنے سر لیے الزام آ گئی
راہِ وفا بھی تلخ تھی ہر ہر نفسِ حیات
عمرِ اجل دراز مِرے کام آ گئی
وعدہ بھی ان سے ہونے نہ پایا وصال کا
لے کر پیامِ ہجر لو پھر شام آ گئی
لبریز اور جام کرو میں نشے میں ہوں
اتنا تو اہتمام کرو میں نشے میں ہوں
کرنا ہے مجھ کو صبحِ قیامت کا سامنا
رنگین اور کرو شام میں نشے میں ہوں
جنت، دل و نگاہ کی راحت کا نام ہے
کچھ سوچ کر کلام کرو میں نشے میں ہوں
ہم سے دیوانوں کا جب عزم جواں ہوتا ہے
اک نیا راز زمانہ پہ عیاں ہوتا ہے
طورِ سینا ہو، وہ کعبہ ہو کہ بت خانہ ہو
اس کا دیدار جہاں چاہو وہاں ہوتا ہے
پھر فضا بدلی ہے، پھر شورِ اناالحق اٹھا
قصۂ دار کہیں پھر سے بیاں ہوتا ہے
اسی کو دَیر و حرم بھی سلام کرتے ہیں
ہم اہلِ دل جسے اپنا امام کرتے ہیں
وہاں کی خاک فرشتے بھی پا نہیں سکتے
جہاں پہ عشق کے مارے مقام کرتے ہیں
انہیں حیات میں اندیشۂ حیات کہاں
جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں
دامن کے تار تار میں موتی پرو لیے
حد سے بڑھا ملالِ جدائی تو رو لیے
فکرِ جہاں نے جب بھی کیا دل کو بے قرار
تھک کر تِرے خیال کی باہوں میں سو لیے
جرمِ وفا کی اور کوئی دیجئے سزا
اپنی جفا سے میری وفائیں نہ تولیے