مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے
غمِ دنیا سے فرصت ہو گئی ہے
ہمارا کام ہے موتی لٹانا
ہمیں رونے کی عادت ہو گئی ہے
جہاں میں قد و قیمت میرے غم کی
تِرے غم کی بدولت ہو گئی ہے
دلِ شاعر کے نغماتِ حسیں سے
تِرے جلوؤں کی شہرت ہو گئی ہے
کہاں ہیں مصر کے بازار والے
دلوں کی نصف قیمت ہو گئی ہے
جلیل اب دل نہیں ملتا کسی سے
عجب اپنی طبیعت ہو گئی ہے
جلیل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment