Showing posts with label ابن انشا. Show all posts
Showing posts with label ابن انشا. Show all posts

Thursday, 15 January 2026

لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے

 لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے

ہم ہر برج میں گھٹتے گھٹتے صبح تلک گمنام ہوئے

ان لوگوں کی بات کرو جو عشق میں خوش انجام ہوئے

نجد میں قیس یہاں پر انشاؔ خار ہوئے ناکام ہوئے

کس کا چمکتا چہرا لائیں کس سورج سے مانگیں دھوپ

گھور اندھیرا چھا جاتا ہے خلوت دل میں شام ہوئے

Sunday, 21 August 2022

جلے تو جلاؤ گوری پيت کا الاؤ گوری

گیت


 جلے تو جلاؤ گوری، پيت کا الاؤ گوری

ابھی نہ بُجھاؤ گوری، ابھی سے بُجھاؤ نا

پيت ميں بجوگ بھی ہے، کامنا کا سوگ بھی ہے

پيت بُرا روگ بھی ہے، لگے تو لگاؤ نا

گيسوؤں کا ناگنوں سے، بيرنوں ابھاگنوں سے

جوگنوں بیراگنوں سے، کھيلتی ہی جاؤ نا

Sunday, 1 November 2020

اب کریں انتظار تو کس کا

 اب کریں انتظار تو کس کا

وہ حسیں ہونٹ وہ حسیں آنکھیں

پھول سا جسم چاند سا چہرہ

عنبریں زلفیں، مخملیں باہیں

آج تک جن کا لمس باقی تھا

اب فقط ان کی یاد باقی ہے

Sunday, 12 January 2020

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے 
کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے 
آج مگر اک نار کو دیکھا، جانے یہ نار کہاں کی ہے 
مصر کی مورت، چین کی گڑیا، دیوی ہندوستان کی ہے 
مکھ پر روپ سے دھوپ کا عالم بال اندھیری شب کی مثال 
آنکھ نشیلی، بات رسیلی، چال بلا کی بانکی ہے 

سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہو

سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہو
انشا صاحب! ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہو
دل کی بات چھپانی مشکل، لیکن خوب چھپاتے ہو
بن میں دانا، شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہو
بے کل بے کل رہتے ہو، پر محفل کے آداب کے ساتھ
آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے ہو، بھولے بھی بن جاتے ہو

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو، ہاں اے لوگو، خاموش رہو
سچ اچھا پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیالہ بھی
پاگل ہو؟ ناحق کو سقراط بنو،۔ خاموش رہو
حق اچھا، پر اس کے لیے کوئی اور مَرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو

تو کہے جائے گا کب تک کہ ہوا کچھ بھی نہیں

یہ خلش کہاں سے ہوتی

تُو کہے جائے گا کب تک کہ ہوا کچھ بھی نہیں
اے دل! اس درد کی سنتے ہیں دوا کچھ بھی نہیں
کس لیے چین سے محروم ہیں اپنے شب و روز
کچھ سمجھ نہیں آتا، بخدا کچھ بھی نہیں
مہرباں بھی ہیں محبت بھی ہے ان کو ہم سے
لوگ کہتے ہیں، مگر ہم کو پتا کچھ بھی نہیں

Monday, 16 July 2018

تاریخ کے چند دور

تاریخ کے چند دور 

راہوں میں پتھر
جلسوں میں پتھر
سینوں میں پتھر
عقلوں پہ پتھر
آستانوں پہ پتھر

پچھلے پہر کے سناٹے میں

پچھلے پہر کے سناٹے میں 

پچھلے پہر کے سناٹے میں 
کس کی سِسکی کس کا نالہ 
کمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے 
زور ہوا کا ٹوٹ چکا ہے 
کھلے دریچے کی جالی سے 

Monday, 11 December 2017

کبھی ان کے ملن کی آشا نے اک جوت جگا دی تھی من میں

کبھی ان کے ملن کی آشا نے اک جوت جگا دی تھی من میں
اب من کا اجالا سنولایا، پھر شام ہے من کے آنگن میں
جو گھلتا ہے آنسو ڈھلتے ہیں، ہر نِیر میں دِیپ سے جلتے ہیں
اب بِرہا سے جی کی آگ بجھے، یہ تو اور بھی بھڑکے ساون میں
چلو انشا کے پاس چلیں بیٹھیں سنیں گیت منوہر پریم بھرے
جنہیں سن لیں تو من کو مسوس مریں سبھی گوپیاں گوکل کے بن میں

سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکے

سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکے 
تیرا دامن دور نہیں تھا، ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکے 
تو اے دوست! کہاں لے آیا چہرہ یہ خورشید مثال 
سینے میں آباد کریں گے آنکھوں میں تو سما نہ سکے 
نا تجھ سے کچھ ہم کو نسبت نا تجھ کو کچھ ہم سے کام 
ہم کو یہ معلوم تھا لیکن دل کو یہ سمجھا نہ سکے 

Wednesday, 15 November 2017

کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے

کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے 
ہاں در پہ تِرے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہے 
اس بات پہ کیوں اس کی اتنا بھی حجاب آئے 
فریاد سے بے بہرہ کشکول سے خالی ہے 
شاعر ہے تو ادنیٰ ہے، عاشق ہے تو رسوا ہے 
کس بات میں اچھا ہے کس وصف میں عالی ہے 

دل اک کٹیا دشت کنارے

دل اک کٹیا دشت کنارے

دنیا بھر سے دور یہ نگری
نگری دنیا بھر سے نرالی
اندر ارمانوں کا میلہ
باہر سے دیکھو تو خالی
ہم ہیں اس کٹیا کے جوگی
ہم ہیں اس نگری کے والی

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو 
یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں 
ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرا مہرا 
یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی 
سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا 
کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی 

دل آشوب

دل آشوب

یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیا 
اک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیا 
پھر چاند ہمیں کسی رات کی گود میں ڈال گیا

ہم شہر میں ٹھہریں، ایسا تو جی کا روگ نہیں 
اور بن بھی ہیں سونے ان میں بھی ہم سے لوگ نہیں 
اور کوچے کو تیرے لوٹنے کا تو سوال گیا 

Tuesday, 31 January 2017

میرے گھر سے تو سر شام ہوئے رخصت

میرے گھر سے تو سرِ شام ہوئے رخصت

میرے گھر سے تو سرِ شام ہوئے ہو رخصت
میرے خلوت کدۂ دل سے نہ جانا ہو گا
ہجر میں اور تو سب موت کے ساماں ہوں گے
اک یہی یاد بہلنے کا بہانا ہو گا
تم تو جانے کو ہو اس شہر کو ویراں کر کے

ہم لوگ تو ظلمت میں جینے کے بھی عادی ہیں

پایان فارم

ہم لوگ تو ظلمت میں جینے کے بھی عادی ہیں
اس درد نے کیوں دل میں شمعیں سی جلا دی ہیں
اک یاد پہ آہوں کا طوفاں امڈتا ہوا آتا ہے
اک ذکر پہ اب دل کو تھاما نہیں جاتا ہے
اک نام پہ آنکھوں میں آنسو چلے آتے ہیں
جی ہم کو جلاتا ہے، ہم جی کو جلاتے ہیں

جس کی محنت اس کا حاصل

جس کی محنت اس کا حاصل

سکھ کے سپنے دیکھتے جاگے
جگ جگ کے دکھیارے سائیں
کھلتا ہے محنت کا پرچم
سنتے ہو جے کارے سائیں
دھرتی کانپنے انبر کانپے
کانپیں چاند ستارے سائیں

Sunday, 22 January 2017

ساگر کے ساحل سے لائی سرد ہوا کیسا سندیس

سندیس

ساگر کے ساحل سے لائی سرد ہوا کیسا سندیس
درد کی دھوپ میں جھلسنے شاعر گھوم نہیں اب دیس بدیس
عشق کا درد، جنوں، وحشت، بیتے جگ کی باتیں ہیں
اب تو چاند سرِ بام آیا اب سکھ کی راتیں ہیں
یاد کبھی اس پونم کی تجھے اور نہیں تڑ پائے گی
آپ ہی آپ وہ دل کی رانی یہلو میں آ جائے گی

کچھ لوگ کہ اودے نیلے پیلے کالے ہیں

کچھ رنگ ہیں

کچھ لوگ کہ اودے، نیلے پیلے، کالے ہیں
دھرتی پہ دھنک کے رنگ بکھیرنے والے ہیں
کچھ رنگ چرا کے لائیں گے یہ بادل سے
کچھ چوڑیوں سے کچھ مہندی سے کچھ کاجل سے
کچھ رنگ بسنت کے رنگ ہیں رنگ پتنگوں کے
کچھ رنگ ہیں جو سردار ہیں سارے رنگوں میں