اس دور نے انساں انہیں تسلیم کیا ہے
منظور زمانے میں جنہیں خُونِ وفا ہے
حق کے لیے باطل کا پھر آغاز ہُوا ہے
پھر پیشِ نظر معرکۂ کرب و بلا ہے
ہے موسمِ گُل اور کسی گُل میں نہیں خُوشبو
منظر یہ گُلستاں کا بڑا ہوشرُبا ہے
انساں جو سمجھتا نہیں کچھ اپنی حقیقت
احساس کی دہلیز پہ خاموش کھڑا ہے
کل تک جو خلیق اپنے مقدر پہ تھے نازاں
مجبوریوں کا آج انہیں احساس ہوا ہے
خلیق برہانپوری
No comments:
Post a Comment