نہ تھا فضاؤں کا قیدی نہ وہ مکان میں تھا
پرندہ فکر کا اک خاص ہی اُڑان میں تھا
تمام شہر کے ہاتھوں میں تھے دھنش لیکن
جو ایک تیر تھا وہ میری ہی کمان میں تھا
جسے پڑوسی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا
ہمارے پُرکھوں کا ورثہ اسی زبان میں تھا
کوئی سمجھ نہ سکا اس کی خوشگمانی کو
زمیں نصیب ہے لیکن وہ آسمان میں تھا
خود اپنے سامنے اک بار جھُک نہ پایا میں
تمام عمر مِرا ذہن امتحان میں تھا
ایم جے خالد
No comments:
Post a Comment