ملبے میں دبا موسم
بے کراں مخملی وادیوں میں
سفید کالے سُبک سے گھوڑے
ایالیں اپنی اُڑا رہے ہیں
بدن سے نکلتے پسینے کی
مست جھاگ مہکاتے
ملبے میں دبا موسم
بے کراں مخملی وادیوں میں
سفید کالے سُبک سے گھوڑے
ایالیں اپنی اُڑا رہے ہیں
بدن سے نکلتے پسینے کی
مست جھاگ مہکاتے
تدبر
اپنے پیروں میں
ضبط کی زنجیر ڈالو
اور
زبان کو لگام دو
صبر کا سہارا لو
مطالعہ
مِرے اندر
جھانک کے دیکھو
اس کونے سے اس کونے تک
پوشیدہ ادوار ہیں کتنے
نادانی سے دانائی تک
کل اور آج
وہ زمانہ بھی
کیا زمانہ تھا
جب
لوگوں کے سر سفید ہوجاتے تھے
لیکن خون سُرخ ہی رہتا تھا
قیمتی صفر
جب
گھر میں عورت آئی
میں تقسیم ہوا
پھر بچے آئے
اور تقسیم ہوا
پھر ایک دن میں
ملبے میں دبا موسم
بے کراں مخملی وادیوں میں
سفید کالے سبک سے گھوڑے
ایالیں اپنے اُڑا رہے ہیں
بدن سے نکلتے پسینے کی
مست جھاگ مہکاتے