شعر میں جسم کی تجرید نہیں کرتا میں
عہدِ سفاک کی تجدید نہیں کرتا میں
حق پرستوں کی جو تردید نہیں کرتا میں
اس لیے جھوٹوں کی تائید نہیں کرتا میں
حسن والوں کو خدا مان کے جو پوجتے ہیں
معذرت! ایسوں کی تقلید نہیں کرتا میں
شعر میں جسم کی تجرید نہیں کرتا میں
عہدِ سفاک کی تجدید نہیں کرتا میں
حق پرستوں کی جو تردید نہیں کرتا میں
اس لیے جھوٹوں کی تائید نہیں کرتا میں
حسن والوں کو خدا مان کے جو پوجتے ہیں
معذرت! ایسوں کی تقلید نہیں کرتا میں
ایک گل پر شباب دیکھا ہے
آج تازہ گلاب دیکھا ہے
ظلم گر حد سے بھی بڑھے لیکن
حق کے زیرِ عتاب دیکھا ہے
فکرِ روزی الگ، محبت میں
حال سب کا خراب دیکھا ہے
سنا تھا بیچ لشکر کی بغاوت مار دیتی ہے
مگر اب تو محبت کو محبت مار دیتی ہے
بظاہر متّقی، لیکن منافق ہو جو اندر سے
تو ایسے متّقی کو اس کی نیّت مار دیتی ہے
مجھے تم جوش میں گھر پر بلاتی ہو مگر مجھ کو
تِری کوفہ مزاجوں سی طبیعت مار دیتی ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
شیر خداؑ کے لعل جو زہراؑ کے چین ہیں
یعنی مِری مراد وہ حسنؑ و حسینؑ ہیں
بس اس لیے طویل ہوا سجدۂ رسولؐ
جو پشت پر سوار ہیں وہ دیں کی زین ہیں
تقدیر کی رضا پہ جو راضی رہے سدا
توصیف میں انہی کی یہ دن اور رین ہیں
وہ سرِ دشت مِری پیاس بجھا دیتا ہے
موجِ دریا میں دوبارہ بھی پھرا دیتا ہے
دل مِرا پہلے محبت سے پریشان ہے اور
اک نیا شخص محبت کی صدا دیتا ہے
جو تمہیں مفت ملے، عشق نہیں آبِ سبیل
جوئے شیریں ہے یہ فرہاد کھپا دیتا ہے