Showing posts with label شائق سعیدی. Show all posts
Showing posts with label شائق سعیدی. Show all posts

Wednesday, 14 September 2022

شعر میں جسم کی تجرید نہیں کرتا میں

 شعر میں جسم کی تجرید نہیں کرتا میں

عہدِ سفاک کی تجدید نہیں کرتا میں

حق پرستوں کی جو تردید نہیں کرتا میں

اس لیے جھوٹوں کی تائید نہیں کرتا میں

حسن والوں کو خدا مان کے جو پوجتے ہیں

معذرت! ایسوں کی تقلید نہیں کرتا میں

Friday, 19 August 2022

ایک گل پر شباب دیکھا ہے

 ایک گل پر شباب دیکھا ہے 

آج تازہ گلاب دیکھا ہے 

ظلم گر حد سے بھی بڑھے لیکن

حق کے زیرِ عتاب دیکھا ہے 

فکرِ روزی الگ، محبت میں

حال سب کا خراب دیکھا ہے 

Sunday, 14 August 2022

سنا تھا بیچ لشکر کی بغاوت مار دیتی ہے

 سنا تھا بیچ لشکر کی بغاوت مار دیتی ہے

مگر اب تو محبت کو محبت مار دیتی ہے

بظاہر متّقی، لیکن منافق ہو جو اندر سے

تو ایسے متّقی کو اس کی نیّت مار دیتی ہے

مجھے تم جوش میں گھر پر بلاتی ہو مگر مجھ کو

تِری کوفہ مزاجوں سی طبیعت مار دیتی ہے

Saturday, 13 August 2022

شیر خدا کے لعل جو زہرہ کے چین ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


شیر خداؑ کے لعل جو زہراؑ کے چین ہیں

یعنی مِری مراد وہ حسنؑ و حسینؑ ہیں

بس اس لیے طویل ہوا سجدۂ رسولؐ

جو پشت پر سوار ہیں وہ دیں کی زین ہیں

تقدیر کی رضا پہ جو راضی رہے سدا

توصیف میں انہی کی یہ دن اور رین ہیں

Thursday, 31 March 2022

وہ سر دشت مری پیاس بجھا دیتا ہے

 وہ سرِ دشت مِری پیاس بجھا دیتا ہے

موجِ دریا میں دوبارہ بھی پھرا دیتا ہے

دل مِرا پہلے محبت سے پریشان ہے اور

اک نیا شخص محبت کی صدا دیتا ہے

جو تمہیں مفت ملے، عشق نہیں آبِ سبیل

جوئے شیریں ہے یہ فرہاد کھپا دیتا ہے