Sunday, 14 August 2022

سنا تھا بیچ لشکر کی بغاوت مار دیتی ہے

 سنا تھا بیچ لشکر کی بغاوت مار دیتی ہے

مگر اب تو محبت کو محبت مار دیتی ہے

بظاہر متّقی، لیکن منافق ہو جو اندر سے

تو ایسے متّقی کو اس کی نیّت مار دیتی ہے

مجھے تم جوش میں گھر پر بلاتی ہو مگر مجھ کو

تِری کوفہ مزاجوں سی طبیعت مار دیتی ہے

ستم ہے تم حسیں ہو اور بڑھ کر تم ذہیں بھی ہو

سنو! ایسے حسینوں کو ذہانت مار دیتی ہے

کہانی گر کہانی ہی رہے تو یار! اچھا ہے

حقیقت میں کہانی کی حقیقت مار دیتی ہے

یہاں تو عاشقوں کو لوگ جینے بھی نہیں دیتے

اگر ان سے بچیں بھی تو حکومت مار دیتی ہے

یہ تیرا خوف اپنی جا پہ رہ جائے، یہی بہتر

بڑھے جو خوف حد سے تو یہ جرأت مار دیتی ہے

مصیبت کے لیے بن جاؤ خود ہی بس مصیبت تم

سنا ہے کہ مصیبت کو مصیبت مار دیتی ہے

زمانے بھر کی باتوں کا مجھے کچھ ڈر نہیں شائق

مگر، تیرے مُکر جانے کی عادت مار دیتی ہے


شائق سعیدی

No comments:

Post a Comment