Sunday, 14 August 2022

آدمی عمر سے نہیں ڈھلتا

 غدار


آدمی عمر سے نہیں ڈھلتا 

آدمی غم سے بھی نہیں مرتا

آدمی کی صفت لڑائی ہے

آدمی اپنے حق کی خاطر تو

ایک  دریا ہو آگ کا بے شک 

اس کو خاطر میں بھی نہیں لاتا

ویسے غدار اس کو کہتے تھے

وہ جو اندر سے وار کرتے تھے

شاید اب بھی یہی ہو نام اُن کا 

پہلے غدار ان کو کہتے تھے

یہ جو قوموں کو لے ڈبوتے  ہیں

اب بھی ایمان کا سودا کرتے ہیں  

اپنا ایماں بیچ دیتے ہیں 

وار جب دوسروں پہ کرتے ہیں

پہلے غدار ان کو کہتے تھے

شاید اب بھی یہی ہو نام ان کا

اس کی پہچان سیکھ لو لوگو

ان کا بس ایک نام ہوتا ہے 

پہلے غدار ان کو کہتے تھے

شاید اب بھی یہی ہے نام ان کا


طاہرہ الطاف

No comments:

Post a Comment