غدار
آدمی عمر سے نہیں ڈھلتا
آدمی غم سے بھی نہیں مرتا
آدمی کی صفت لڑائی ہے
آدمی اپنے حق کی خاطر تو
ایک دریا ہو آگ کا بے شک
اس کو خاطر میں بھی نہیں لاتا
ویسے غدار اس کو کہتے تھے
وہ جو اندر سے وار کرتے تھے
شاید اب بھی یہی ہو نام اُن کا
پہلے غدار ان کو کہتے تھے
یہ جو قوموں کو لے ڈبوتے ہیں
اب بھی ایمان کا سودا کرتے ہیں
اپنا ایماں بیچ دیتے ہیں
وار جب دوسروں پہ کرتے ہیں
پہلے غدار ان کو کہتے تھے
شاید اب بھی یہی ہو نام ان کا
اس کی پہچان سیکھ لو لوگو
ان کا بس ایک نام ہوتا ہے
پہلے غدار ان کو کہتے تھے
شاید اب بھی یہی ہے نام ان کا
طاہرہ الطاف
No comments:
Post a Comment