جنوں کا دشت میں کچھ انتظام ہے کہ نہیں
کہو، ہمارا وہاں کوئی کام ہے کہ نہیں
دہکتی آگ کے مانند سرخ پوش بدن
ہمارے واسطے بھی کوئی شام ہے کہ نہیں
وہ ہم کو دیکھتے گزرا ہے، دیکھو طعنہ زنو
ہمارا اس سے دعا و سلام ہے کہ نہیں
یہ پہلی شرط ہے پانی پہ پاؤں دھرنے کی
سو گرد باد بدن گام گام ہے کہ نہیں؟
اے بادہ خوارو! اے رندو! تمہی بتاؤ مجھے
وہ لب سبُو نہیں، وہ آنکھ جام ہے کہ نہیں؟
جنابِ قیس کے دفتر سے ہی پتہ چلے گا
جنوں شعاروں میں اپنا بھی نام ہے کہ نہیں
میں میکدے سے نکل کر خدا سے پوچھتا ہوں
تمہارے گھر میں ایسا اہتمام ہے کہ نہیں
جو اپنے دام یہاں خود لگاتا پھرتا ہے
کوئی بتاؤ کہ وہ بھی غلام ہے کہ نہیں
عثمان سکندر
No comments:
Post a Comment