Showing posts with label سعید اشعر. Show all posts
Showing posts with label سعید اشعر. Show all posts

Monday, 17 April 2023

کارواں چلنے کو تیار ہے ایسا بھی نہیں

کارواں چلنے کو تیار ہے، ایسا بھی نہیں

راستے میں کوئی دیوار ہے، ایسا بھی نہیں

پورے قصے میں کہیں بھی نظر آیا نہیں یہ

عشق بھولا ہوا کردار ہے، ایسا بھی نہیں

ریل گاڑی سے میں ٹکراؤں گا ناکامی پر

اتنا اونچا مِرا معیار ہے، ایسا بھی نہیں

Friday, 14 April 2023

میری چھاگل خالی تھی

 خالی چھاگل


جانے کیا سوچ کے اس نے

محفل میں بیٹھے اک بوڑھے کی چٹکی لی

"بابا جی کوئی حکمت کی بات بتائیں"

اپنی دھندلی آنکھوں سے

بابا جی نے اس کی جانب دیکھا

Thursday, 13 April 2023

بدن نے روح نے پائی شفا مدینے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بدن نے، روح نے پائی شفا مدینے سے

مِرا بھی ہونے لگا رابطہ مدینے سے

مِرے بھی سر پہ رہے گا حضورؐ کا سایا

مِرے لیے بھی چلے گی ہوا مدینے سے

درودﷺ پڑھتا ہوں اول بھی اور آخر بھی

قبول ہوتی ہے میری دعا مدینے سے

Wednesday, 12 April 2023

کبھی پورا کبھی آدھا نظر آتا ہے مجھے

 کبھی پورا کبھی آدھا نظر آتا ہے مجھے

میرے اشعر تِرا سایہ نظر آتا ہے مجھے

یہ مِری آنکھ کا دھوکہ ہے کہ موسم ہے کوئی

اب اجالے میں اندھیرا نظر آتا ہے مجھے

یہ بصارت ہے مِری یا کہ بصیرت میری

ایک پردہ پسِ پردہ نظر آتا ہے مجھے

Sunday, 1 August 2021

میں دکھیا ہوں تم کیسے ہو

 گڈ نائٹ


میں دُکھیا ہوں

تم کیسے ہو؟

تمہیں دو بول تسلی کے نہیں آتے

پھر وہ پندرہ روز نہیں آئی

گڈ مارننگ

گڈ مارننگ کیوں؟

Sunday, 25 July 2021

اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا

 اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا

جلتا ہوا اکیلا،۔ بجھتا ہوا اکیلا

کب تک کرے گا مجھ میں آباد اک جہاں کو

شاخوں میں اک پرندہ بیٹھا ہوا اکیلا

بڑھتا رہا میں آگے ہٹتا رہا میں پیچھے

دن بھر یوں ہی ہوا سے لڑتا ہوا اکیلا

تیری خاطر کمال کرتا ہوں

 تیری خاطر کمال کرتا ہوں

زندگی یرغمال کرتا ہوں

روشنی مسئلے بناتی ہے

تیرگی کو فعال کرتا ہوں

میرے ماتھے پہ وہ ابھرتے ہیں

نقش جو پائمال کرتا ہوں

Saturday, 24 July 2021

کبھی لگاوٹ کبھی عداوت مجھے اجازت

 کبھی لگاوٹ، کبھی عداوت، مجھے اجازت

تجھے ہے سوجھی نئی شرارت مجھے اجازت

میں آئینے کو قریب لا کے ذرا جو رکھوں

بدلنے لگتی ہے تیری صورت مجھے اجازت

ہر ایک تجھ کو بہت ہے پیارا، بہت ہی پیارا

میں جانتا ہوں یہ تیری عادت، مجھے اجازت

Sunday, 2 May 2021

گو کہ وہ میرا یار ہے ہی نہیں

 گو کہ وہ میرا یار ہے ہی نہیں

مجھ پہ یہ آشکار ہے ہی نہیں

اس کنارے پہ میں اکیلا ہوں

کوئی دریا کے پار ہے ہی نہیں

خود سے چھُپتا ہُوا کہاں جاؤں

کوئی پربت پہ غار ہے ہی نہیں

Saturday, 28 November 2020

وہ مہربان ہے لیکن وہ میں نے چاہی نہیں

 وہ مہربان ہے، لیکن وہ میں نے چاہی نہیں

مرے وجود میں خواہش کی اب فضا ہی نہیں

یہ میرے شعر ہیں، کاغذ پہ کوئی قصہ نہیں

یہ روشنی ہے مری جان، یہ سیاہی نہیں

میں چاند ہاتھ میں لے کر تلاش کرتا ہوں

کوئی ستارہ گلی میں مجھے ملا ہی نہیں