کارواں چلنے کو تیار ہے، ایسا بھی نہیں
راستے میں کوئی دیوار ہے، ایسا بھی نہیں
پورے قصے میں کہیں بھی نظر آیا نہیں یہ
عشق بھولا ہوا کردار ہے، ایسا بھی نہیں
ریل گاڑی سے میں ٹکراؤں گا ناکامی پر
اتنا اونچا مِرا معیار ہے، ایسا بھی نہیں
کارواں چلنے کو تیار ہے، ایسا بھی نہیں
راستے میں کوئی دیوار ہے، ایسا بھی نہیں
پورے قصے میں کہیں بھی نظر آیا نہیں یہ
عشق بھولا ہوا کردار ہے، ایسا بھی نہیں
ریل گاڑی سے میں ٹکراؤں گا ناکامی پر
اتنا اونچا مِرا معیار ہے، ایسا بھی نہیں
خالی چھاگل
جانے کیا سوچ کے اس نے
محفل میں بیٹھے اک بوڑھے کی چٹکی لی
"بابا جی کوئی حکمت کی بات بتائیں"
اپنی دھندلی آنکھوں سے
بابا جی نے اس کی جانب دیکھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بدن نے، روح نے پائی شفا مدینے سے
مِرا بھی ہونے لگا رابطہ مدینے سے
مِرے بھی سر پہ رہے گا حضورؐ کا سایا
مِرے لیے بھی چلے گی ہوا مدینے سے
درودﷺ پڑھتا ہوں اول بھی اور آخر بھی
قبول ہوتی ہے میری دعا مدینے سے
کبھی پورا کبھی آدھا نظر آتا ہے مجھے
میرے اشعر تِرا سایہ نظر آتا ہے مجھے
یہ مِری آنکھ کا دھوکہ ہے کہ موسم ہے کوئی
اب اجالے میں اندھیرا نظر آتا ہے مجھے
یہ بصارت ہے مِری یا کہ بصیرت میری
ایک پردہ پسِ پردہ نظر آتا ہے مجھے
گڈ نائٹ
میں دُکھیا ہوں
تم کیسے ہو؟
تمہیں دو بول تسلی کے نہیں آتے
پھر وہ پندرہ روز نہیں آئی
گڈ مارننگ
گڈ مارننگ کیوں؟
اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا
جلتا ہوا اکیلا،۔ بجھتا ہوا اکیلا
کب تک کرے گا مجھ میں آباد اک جہاں کو
شاخوں میں اک پرندہ بیٹھا ہوا اکیلا
بڑھتا رہا میں آگے ہٹتا رہا میں پیچھے
دن بھر یوں ہی ہوا سے لڑتا ہوا اکیلا
تیری خاطر کمال کرتا ہوں
زندگی یرغمال کرتا ہوں
روشنی مسئلے بناتی ہے
تیرگی کو فعال کرتا ہوں
میرے ماتھے پہ وہ ابھرتے ہیں
نقش جو پائمال کرتا ہوں
کبھی لگاوٹ، کبھی عداوت، مجھے اجازت
تجھے ہے سوجھی نئی شرارت مجھے اجازت
میں آئینے کو قریب لا کے ذرا جو رکھوں
بدلنے لگتی ہے تیری صورت مجھے اجازت
ہر ایک تجھ کو بہت ہے پیارا، بہت ہی پیارا
میں جانتا ہوں یہ تیری عادت، مجھے اجازت
گو کہ وہ میرا یار ہے ہی نہیں
مجھ پہ یہ آشکار ہے ہی نہیں
اس کنارے پہ میں اکیلا ہوں
کوئی دریا کے پار ہے ہی نہیں
خود سے چھُپتا ہُوا کہاں جاؤں
کوئی پربت پہ غار ہے ہی نہیں
وہ مہربان ہے، لیکن وہ میں نے چاہی نہیں
مرے وجود میں خواہش کی اب فضا ہی نہیں
یہ میرے شعر ہیں، کاغذ پہ کوئی قصہ نہیں
یہ روشنی ہے مری جان، یہ سیاہی نہیں
میں چاند ہاتھ میں لے کر تلاش کرتا ہوں
کوئی ستارہ گلی میں مجھے ملا ہی نہیں