ندی
سچ یہ ہے
کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں
یہاں تک کہ سال کے سخت ترین دنوں میں
ندی جو اس وقت نہیں ہے آپ کے گھر میں
لیکن کہیں نہ کہیں ضرور ہو گی
کسی چٹائی میں
ندی
سچ یہ ہے
کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں
یہاں تک کہ سال کے سخت ترین دنوں میں
ندی جو اس وقت نہیں ہے آپ کے گھر میں
لیکن کہیں نہ کہیں ضرور ہو گی
کسی چٹائی میں
ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں
تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں
رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں
ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں
پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو
دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں
یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے
لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے
یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح
دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا کے حکم سے مٹی کے پیکر بول اٹھے ہیں
نبیﷺ کے لمس سے بے جان پتھر بول اٹھے ہیں
ہے ان کی رحمۃ اللعالمینی کا یقیں شاید
کہ مداحِ رُسل کافر بھی اکثر بول اٹھے ہیں
محمد مصطفیٰﷺ ہیں خود ہمارے رہنما، ربی
خدا کے سامنے سارے پیمبر بول اٹھے ہیں
میرا مزاج دعاؤں جیسا
وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا
مرادیں کیسے بر آتی
وہ غرو پرور اناؤں جیسا
میں ہوں وہ ساون
جو جم کے برسے
یہ توبہ کا میری گھٹا بن کے چھانا
چھلکتا برستا ہوا جام 🍷 لانا
یہ وقتِ قبولِ دُعائے سحر ہے
ذرا بچ کے ہاتھوں سے دامن بچانا
غرورِ تغافل کے انداز والے
تِرا امتحاں ہے مِرا آزمانا
ہو گئی جو خطا خُدا بخشے
کر رہا ہوں دعا خدا بخشے
جس نے کی بے رُخی خدا پوچھے
کر گیا جو وفا خدا بخشے
وہ نہیں بخشے جو منافق تھے
جن میں تھی کچھ حیا خدا بخشے
آپ کو گر خیالِ وعدۂ باہم رہے
مبتلائے آرزو کیوں مبتلائے غم رہے
کر تڑپنے میں مدد اے دل کہ ٹھانی ہم نے ہے
آج قیدِ غم رہے، یا مبتلائے غم رہے
پھر وہی آشفتگی ہو، پھر وہی دیوانگی
دل پہ یا رب! پھر جنونِ عشق کا عالم رہے
جنونِ عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے
وہ میرے پاس تو آئے مگر اُداس آئے
جسے حیات کسی رُخ سے بھی نہ راس آئے
کسی کے پاس نہ جائے ہمارے پاس آئے
وہاں سے جلد گُزر جائیں رہروانِ حیات
جہاں بھی راہ میں کوئی مقامِ یاس آئے
پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں
تُو ہی بتا اے گردشِ ایام! کیا کریں
اک پَل کو لب پہ آئی ہنسی پھر پلٹ گئی
یاد آ گیا ہو جیسے کوئی کام کیا کریں
ہر آرزُو کے ہونٹ زمانے نے سی دئیے
بُجھنے لگا چراغ سرِ شام کیا کریں
صورتِ آب کو بھی صورتِ صحرا رکھے
وہ تو ہر خواب کی تعبیر کو اُلٹا رکھے
ابرِ چاہت کوئی آئے کہ یہاں آگ بجھے
"ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ صحرا رکھے"
تھک گیا ہوں یہاں کردار نبھاتے ہوئے میں
بس کہانی سے مُجھے اب وہ الگ سا رکھے
تابِ فُرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیں
اسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیں
خُود فریبی سے تِرا لُطف جسے کہہ سکتے
اپنی قسمت میں وہ مُبہم سا اشارا بھی نہیں
موجِ ساحل ہی ڈبو دیتی تو کیا کہنا تھا
وہ سفینہ جسے طُوفاں کا سہارا بھی نہیں
کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں
ایک سورج ڈھونڈتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں
دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار
آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں
موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا اِدھر
جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں
الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں
کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں
سُبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے
جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں
غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے
بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
گُماں سے بنتا نہیں ہے یہاں یقیں ہر روز
غزل کہو، مجھے کہتی ہے یہ زمیں ہر روز
قسم خُدا کی خُدا کو بھی تھا گِلہ ان سے
جو تیرے آگے جھُکاتے رہے جبیں ہر روز
ہم ایسے لوگ محبت سے بے نیاز رہے
ہمارے نام پہ مرتے رہے حسیں ہر روز
کب تک چلتے رہو گے
سر ہی کیا کم تھا وچاروں کی گھٹڑی سا
جو تم نے اُٹھا رکھا ہے پہاڑ سا
پگڑی کو
اس بوجھ کو لیے
تم کب تک چلتے رہو گے
پھُول کھلانے کے لیے اس تنتر میں
آپ تو اب آئے ہیں ان مرحلوں کے درمیاں
ہم نے صدیاں کاٹ دی ہیں زلزلوں کے درمیاں
فکرِ دُنیا، فکرِ عُقبیٰ، فکرِ ہستی، فکرِ موت
ایک انساں؛ اور اتنے مسئلوں کے درمیاں
دائرے تک ہی ذرا پرواز کو محدود رکھ
موت بھی ملتی ہے اکثر بادلوں کے درمیاں
مرنے کے انتظار میں زندہ رہا ہوں میں
شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہا ہوں میں
منزل کی بات چھوڑئیے رستے بھی کھو گئے
لگتا ہے جیسے خواب میں چلتا رہا ہوں
آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا ہے غور سے
ویسا نہیں ہوں جیسا کہ لگتا رہا ہوں میں
عکاسی کریں دونوں کے حصے میں نہیں ہیں
آئینے میں وصف ہے شیشے میں نہیں ہیں
یہ ہو ہی نہیں سکتا کوئی میری طرف آئے
وہ راستہ ہوں جو کسی نقشے میں نہیں ہیں
میں جان گیا ہوں تری دنیا کی حقیقت
یہ بھیڑیا اب بھیڑ کے پردے میں نہیں ہیں
ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں
اے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیں
یہ آپ کی پُرسش کا ملا ہے ہمیں انعام
کچھ درد محبت کو سوا دیکھ رہے ہیں
پہچان میں آتے نہیں پہچانے ہوئے لوگ
بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا
پر دل کی بستیوں میں دیکھا مقام تیرا
موقوف کب ہے جن و انس و ملائکہ پر
طائر بھی نام لیتے ہیں صبح و شام تیرا
تخصیص نعمتوں میں ابرار کی نہیں کچھ
اشرار پر بھی ہر دم ہے لطف عام تیرا
مانگتے ہیں تو ذرا سا تو نہیں مانگتے ہیں
اے سمندر! تِرا دریا تو نہیں مانگتے ہیں
کیا خبر دُھوپ نہ دے جائے وہ خیرات کے ساتھ
لوگ دِیوار سے سایہ تو نہیں مانگتے ہیں
وحشتیں بانٹتے پھرتے ہیں تِری گلیوں میں
بدلے میں کوئی سِکہ تو نہیں مانگتے ہیں
مریدو یہ مُٹاپا دِیدنی ہے شیخِ کامِل کا
خُدا معلوم کھاتے ہیں یہ آٹا کون سے مِل کا
رہا مصروف پھر بھی رات بھر اختر شماری میں
اثر اُلٹا ہوا اے ڈاکٹر! مجھ پر تِری پِل کا
حیاتِ نو مبارک، اپنا ماضی یاد کر لیلیٰ
تِری موٹر کا شوفر، سارباں تھا تیری محمل کا
تخریبِ باغباں کی حقیقت چُھپی رہی
جب تک نقاب گُل کی چمن پر پڑی رہی
اُمید ناخُداؤں سے جب تک بندھی رہی
تب تک ہماری ناؤ بھنور میں پڑی رہی
جو جبر و اختیار کے بس میں پڑی رہی
کہیے وہ زندگی بھی کوئی زندگی رہی
دردِ دل کو داستاں در داستاں ہونے تو دو
شہرِ قاتل میں ذرا امن و اماں ہونے تو دو
میری آہِ نِیم شب منزل نمائے شوق ہے
نالۂ دل کو رحیلِ کارواں ہونے تو دو
اور بھی نا قدردانئ ہُنر یاد آئے گی
ہمنشینوں کو ملال رفتگاں ہونے تو دو
قاتل یہاں بھی بھائی کا بھائی ہے دوستو
دنیا یہ کیسے موڑ پہ آئی ہے دوستو
مہر و وفا سے اب ہمیں رغبت نہیں رہی
محفل کدورتوں کی سجائی ہے دوستو
لُٹنے پہ گھر ہمارا وہ ایسے ہیں مطمئن
اُمید ان کی جیسے بر آئی ہے دوستو
اُمید کے چراغ سب بُجھا کے ہم رُکے نہیں
یوں عشق میں بساطِ جاں گنوا کے ہم رکے نہیں
تمہارا وصل کھینچ کر تو لا سکے نہ زندگی
تمہارے ہِجر کو گلے لگا کے ہم رکے نہیں
سوال اور جواب کے، عذاب سے رِہا ہوئے
ورق ورق کتابِ جاں جلا کے ہم رکے نہیں
ہمت تمام پیشِ سفر ختم ہو گئی
منزل ہے دُور اور ڈگر ختم ہو گئی
کیسے کٹے گی رات تِرے اِنتظار میں
سگریٹ جو آخری ہے اگر ختم ہو گئی
پھیلی فضا میں کیا تِرے انفاس کی تپش
پھر سرد رات کھو کے اثر ختم ہو گئی
کب سے پھرا رہا ہے جنوں کُو بہ کُو ہمیں
کر لو کبھی خدا کے لیے رُوبرُو ہمیں
بُجھتا ہوا چراغ ہے سُورج کے سامنے
لے آئی ہے کہاں پہ رہِ آرزُو ہمیں
کرتے ہیں اک سراب سے باتیں ہم آج کل
زمزم کی ریگزار میں ہے جُستجُو ہمیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے نام سے ابتداء کر رہا ہوں
میرے رب میں تیری ثناء کر رہا ہوں
گُناہوں سے مجھ کو بچا دے تُو مولا
میں تُجھ سے یہی اِلتجا کر رہا ہوں
میں کمزور ہوں کر دے مجھ پہ عنایت
میں تُجھ سے یہی استدعا کر رہا ہوں
نہ بڑھ جائے حد سے خبردار دیکھو
یہ تقلیدِ مغرب کی رفتار دیکھو
بچایا جو کچھ سینما میں گنوایا
ذرا قومِ مُسلم کے اطوار دیکھو
اصول اور آئین کا فُقدان یکسر
پھر اس پر عزائم کا طومار دیکھو
اُٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے
تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے
جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے
جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے
تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے
قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے
روایت آپ ہی جِدّت کے حق میں بیٹھ گئی
قدیم دور کی پٹڑی سڑک میں بیٹھ گئی
ہمارے مِلتے ہی قطبی ستارا ڈُوب گیا
وہ رہنمائی کی حسرت فلک میں بیٹھ گئی
وہ لالٹین جو سِگنل کے پاس ٹُوٹ گئی
وہ پوری آنکھ ادھوری دھنک میں بیٹھ گئی
پھُول بہت مہنگے ہو گئے ہیں
تم پھُول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے
یہ بھی پتہ ہے کہ تم میں پھُول چُرانے کا پتہ نہیں
تم تو پتا ہِلے تو ڈر جاتے ہو
لیکن تم نے اپنے سر پر قبرستان اُٹھا رکھا ہے
جس کے بھار سے تمہاری گردن ٹُوٹ رہی ہے
لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے
تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے
حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے
اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے
جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو
اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مرحبا صل علیٰ فخر امم وہ شاہ دیںﷺ
جن کے در کی خاک سے روشن ہے عالم کی جبیں
اے خوشا شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ صدر العلیٰ
حضرت آدم کی پیشانی کے نور اولیں
دی شب معراج وہ رفعت انہیں اللہ نے
آپ کے قدموں کے نیچے آ گیا عرش بریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خُدا! دل کا حال کس سے کہوں
شرحِ رنج و ملال کس سے کہوں
لُطف و اخلاص و مہر و اُلفت کا
ہے زمانہ میں کال کس سے کہوں
اپنے لُطف و کرم سے بارِ الٰہ
دُور کر یہ وبال کس سے کہوں
پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے
کھول دیں پھر تو ہو اک شور بپا کیا کہیے
ہم ہوں معدوم جہاں آپ ہوں ممکن ہی نہیں
کب ضیا شمس سے ہوتی ہے جدا کیا کہیے
تم کو ہی چھوڑ دیں یا خود کو ہی ہم کھو بیٹھیں
اتنی ہی بات میں ملتا ہے پتا کیا کہیے
نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ
سلیقہ سیکھ لیتے ہیں غلام آہستہ آہستہ
ہماری جلد بازی نے ہمیں بہکا دیا ورنہ
ہمارے ساتھ چلتی خوش خرام آہستہ آہستہ
ابھی بیکار بیٹھا سب کے قصے سنتا رہتا ہوں
مِری مرضی کا مل جائے گا کام آہستہ آہستہ
بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے
بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے
ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے
جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے
حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا
مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے
مٹا کر ہی چھوڑے گی یادِ حبیب
یہ کانٹا کھٹکتا ہے دل کے قریب
بہت انقلابات آتے رہے
محبت کا لیکن نہ بدلا نصیب
فقط اک محبت ہے آگاہِ راز
نہ وہ دُور ہیں اور نہ مجھ سے قریب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شوقِ نعتِ سیدالابرارﷺ ہونا چاہیے
سامنے قرآن کا معیار ہونا چاہیے
خونِ دل صرف از پئے اشعار ہونا چاہیے
نعت گو کو حاملِ ایثار ہونا چاہیے
بختِ خفتہ اس طرح بیدار ہونا چاہیے
ان کے رُخ کا خواب میں دیدار ہونا چاہیے
کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں
ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں
یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی
کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں
بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا
اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں
اسمِ ظاہر سے تِرے جو کہ خبردار ہوا
تا ابد دِید سے پھر اپنی وہ بیزار ہوا
تیری وحدت میں خریداری کا دعویٰ کس کو
حُسن کا اپنے تُو ہی آپ خریدار ہوا
خُود کو کھو کے نہ لیا جس نے کبھی نام اللہ
حق اگر پُوچھو وہی مخزن اسرار ہوا
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا کا چکا ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
سہمی ہوئی آہوں نے
سب کچھ کہہ ڈالا
خاموش نگاہوں نے
ہمت رائے شرما
بد بلا ہے یہ بد بلا ہے عشق
پری خانم! بہت برا ہے عشق
حسن دریا ہے اے بوا خضرو
دل کی کشتی کا ناخدا ہے عشق
اے عزیز! دن پڑھا زلیخا نے
دل ہی یوسف تو بھیڑیا ہے عشق
خلش و سوز دلفگار ہی دی
دل میں شمشیر آبدار ہی دی
بے وفا سے معاملے کے لیے
اک طبیعت وفا شعار ہی دی
کیفیت دل کی بیان کرنے کو
ایک آواز دلفگار ہی دی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بُلند تر ہے فلک سے وقارِ کُوئے رسولﷺ
نہ کیوں ہو عرش نشیں خاکسارِ سُوئے رسولﷺ
بہ التجا متمنی ہے چند پھولوں کی
بہارِ خُلد نے دیکھی بہار کوئے رسولﷺ
وہ خاک رہتی ہے تاصبح کہکشاں بہ کنار
جہاں پہ خاک ہو خاکسارِ کوئے رسولﷺ
پھول توڑو نہ یوں تتلی کو پریشان کرو
کِھلتا رہنے دو چمن، اس کو نہ وِیران کرو
تم سے مایوس بہت دل ہے کبھی ایسا کرو
سامنے آؤ اچانک، مجھے حیران کرو
ظُلم کرنا جو بُرا ہے تو ہے سہنا بھی غلط
تم کو بھی حق ہے کہ ظالم کو پشیمان کرو
رکھیو بچا کے وار ابھی راستے میں ہوں
آتا ہوں میرے یار ابھی راستے میں ہوں
اس نے بلایا ہی نہیں پر اپنے آپ سے
کہتا ہوں بار بار ابھی راستے میں ہوں
یہ بات سنتے سنتے مِرے کان پک گئے
تھوڑا سا انتظار ابھی راستے میں ہوں
حق کی خاطر بولو گے، مر جاؤ گے
کوئی راز بھی کھولو گے، مر جاؤ گے
صدیوں سے ٹھہرے نفرت کے جوہڑ میں
پیار محبت گھولو گے، مر جاؤ گے
چاہے گھر سے پانی پی کے نکلو گے
تھوڑا سا بھی ڈولو گے، مر جاؤ گے
اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھی
سوکھتے پیڑ سے بھی شاخ نکل آئی تھی
زندگی بھر وہ اداسی کے لیے کافی ہے
ایک تصویر جو ہنستے ہوئے کھنچوائی تھی
کل تو مرنے میں سہولت بھی بہت تھی مجھ کو
ہجر تھا رات تھی برسات تھی تنہائی تھی
مجھ سے ملنے کے لیے آنا کہاں آسان ہے
اک سڑک پر رش بہت ہے اک سڑک سنسان ہے
کیوں کنارہ کش ہوں تیرے چہرہ و آواز سے
آنکھ آخر آنکھ ٹھہری کان بھی پھر، کان ہے
کچھ بتاؤ تو دسمبر میں ہے کیسا رنگ و روپ
وہ عدم آباد جنت کیسی عالی شان ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں کس کو اب کہ ہے تُو ہی تُو تِری شان جل جلالہ
ہوئے ہم تو ہم سے ہی دُو بدُو تری شان جل جلالہ
تِرا حکم جاری ہے کُو بکُو تُو ہی خود نما بھی ہے سُو بہ سُو
سوا تیرے کون ہے رُو بہ رُو تری شان جل جلالہ
کبھی دُشمنوں پہ کرم کیا کبھی دوستوں پہ ستم کیا
یہ عجب طرح کی ہے تیری خُو تری شان جل جلالہ
آنسُو ہیں اور دیدۂ خُونبار دوستو
دامن ہے اور اشک گُہربار دوستو
آنکھوں میں چُبھ رہی ہے غمِ زندگی کی دُھوپ
بیٹھے ہیں زیرِ سایۂ دیوار دوستو
اب دل ہے اور ماتمِ صد شہرِ آرزو
اک سر ہے اور لاکھ خریدار دوستو
لذتِ جورِ ناروا کی قسم
دل ستم دوست ہے خدا کی قسم
نہ اٹھا بارِ منتِ الفاظ
نازکی ہائے مُدعا کی قسم
نغمۂ رُوح و نالے میں
اس گدائے اثر دُعا کی قسم
آنکھ میں خواب بے حجاب آئے
اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے
لا زمانے لہو کو گردش میں
تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے
شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں
کیا سوال آئے، کیا جواب آئے
ہر بار صبر و ضبط کو بخشوں زبان کیوں؟
ہر بار لازمی ہے مِرا امتحان یوں؟
میرے سوا ہیں اور بھی کتنے ہی سر بلند
میرے ہی سر پہ بوجھ تِرا آسمان کیوں؟
جل کر تو راکھ ہو چکے اے چشمِ نم، مگر
یاد آ رہے ہیں آج وہ سارے مکان کیوں؟
چمک کلی کی گُلوں کی ادا بھی کتنی دیر
بہار نغمۂ بادِ صبا بھی کتنی دیر
ان آندھیوں کو بھی ضِد ہے قدم نہ روکیں گی
رہے لبوں پہ کسی کے دُعا بھی کتنی دیر
ہوا کی موج بھی کب تک کرے گی اپنا کام
جنُوں مزاجئ برگِ نوا بھی کتنی دیر
شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے
یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے
میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا
ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے
کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا
مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے
ایسا ہوا کہ آج پھر آئے وہ خواب میں
یہ خاکسار رہ گیا اُلجھا حساب میں
جس دن سے بن گیا ہوں میں ہڈی کباب میں
وہ شوخ پڑ گیا ہے عجب پیچ و تاب میں
دل کے بجائے کیسے وہ پہلو میں آ گیا
اے شیخ جی پڑھا یہ سبق کس کتاب میں
میں زخمِ آبلہ پائی سے تنگ آتا نہیں
ملال کیسا کوئی میرے سنگ آتا نہیں
اُسی کو آتا ہے ہر کارگرِ رمزِ حیات
مجھے تو جینے کا کوئی بھی ڈھنگ آتا نہیں
میں بے دلی پہ مگر روز مُسکراتا ہوں
عجیب شخص ہوں میں خود سے تنگ آتا نہیں
انسان اپنے نفسِ ستم گر کو مارتا
جس حال میں بھی عمر گزرتی گزارتا
زاہد نے کچھ بھی قدر نہ کی تیرے حُسن کی
حُورانِ خُلد کو تِری صُورت پہ وارتا
اس بُوالہوس کو حُسن و وفا کی تمیز کیا
دُشمن ہمارے سامنے شیخی بگھارتا
سب بدلتا ہے
بس انسان نہیں بدلتا
لوگ بدلتے ہیں
آنکھیں بدلتی ہیں
اُمید بدلتی ہے
رُخ بدلتے ہیں
جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے
خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے
مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے
تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے
عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی
میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے
کسی کسی پہ تو کُھلتا ہے عاشقی کا مزاج
کوئی کوئی تو سمجھتا ہے روشنی کا مزاج
وفورِ محفلِ یاراں سے دشتِ مجنوں تک
بدلتا رہتا ہے تیزی سے آدمی کا مزاج
ذرا سی ٹھیس سے منظر ہی ٹوٹ جاتا ہے
جمال آئینہ خانہ ہے زندگی کا مزاج
آخرش خوابِ پریشاں کو کہاں تک دیکھوں
ہر طرف رات کا سایہ ہے جہاں تک دیکھوں
اب تو عادت ہے سرِ شام بکھر جانے کی
ٹُوٹ جانا تو مقدر ہے یہاں تک دیکھوں
ہے تِرے شہر میں زخموں کی نمائش کا رواج
پھر تِرا شوق لبِ زخمِ گُماں تک دیکھوں
ذہن کا کچھ مُنتشر تو حال کا خستہ رہا
کتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہا
صُبحِ کاذب روشنی کے جال میں آنے لگی
سیمگوں سُورج اُجالے پر کمر بستہ رہا
دیکھنے میں کچھ ہوں میں محسوس کرنے میں ہوں کچھ
چشم بینا پر مِرا یہ راز سربستہ رہا
اُگی تھی صحن میں دیوار ہر چڑھی ناں تھی
وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی، بڑھی ناں تھی
میاں! یہ لوگ ہی تاریکیوں کے عادی تھے
چراغ بیچنے والوں کی کچھ کمی ناں تھی
پھر اس کے بعد ہُوا یوں کہ ایک دن اُس نے
وہ بات کہہ دی جو پہلے کبھی کہی ناں تھی
بجز وہم و گماں کچھ بھی نہیں ہے
ہمارے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے
جھلک ہم آرزو کی دیکھتے ہیں
حقیقت میں یہاں کچھ بھی نہیں ہے
ہمیں بے چین کیے رکھتا ہے آخر
اگر سوز نہاں کچھ بھی نہیں ہے
دُھوپ سر سے گُزرنے والی ہے
زندگی شام کرنے والی ہے
آج رشتوں کو جوڑ کر رکھیے
کل تو ہستی بکھرنے والی ہے
یہ جو بل کھا کے چل رہی ہے بہت
یہ ندی تو اُترنے والی ہے
ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں
ٹُوٹتے ہوئے طلسم، پھیلتا ہوا دُھواں
وہ بھی اپنے حُسن سے بے خیال ہو چلا
اور خواب بن گئیں میری سرگِرانیاں
قیس کی محبتیں، کوہکن کی چاہتیں
اور یہ روایتیں بھُولتی کہانیاں
تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو
ہجر کھا جائے گا جب ایک تہائی مجھ کو
اے خُدا مجھ کو بتا پھر میں کہاں جاؤں گا
تیری جنت بھی اگر راس نہ آئی مجھ کو
صرف اُلفت سے یہاں کام نہیں چلتا ہے
اس لیے تھوڑی لگی اپنی کمائی مجھ کو
بدن ہے کانچ کانچ سا خطا کی تیز آنچ سا
پگھل رہا ہے آگ میں وجودِ عشقِ نام سے
ہوس کی اونچی شاخ پر ٹھکانہ ہے ہواؤں کا
گماں کا دیپ جل اٹھا خطوطِ حسنِ خام سے
دھنک بنی ہوئی حیا بدن کا رُوپ دھار کے
بدل رہی ہے پیرہن مقیمِ صُبح و شام سے
بس ہم نے ساتھ تِرا ہر دُعا میں مانگا ہے
کہ اپنی جاں سے زیادہ تُجھی کو چاہا ہے
زمانے بھر کے بہت لوگ تم نے دیکھے ہیں
ہمارے جیسا کہیں کوئی تم نے دیکھا ہے
اندھیری رات کے اے چاند تُو بتا مجھ کو
مِری طرح وہ کبھی تیرے ساتھ جاگا ہے
محوِ فریاد ہو گیا ہے دل
آہ، برباد ہو گیا ہے دل
سینہ کاری میں اپنے ناخن سے
رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
دیکھتے دیکھتے ستم تیرا
سخت ناشاد ہو گیا ہے دل
عشق کی عمر جب اچھال کی تھی
کیوں تمنا تجھے زوال کی تھی
دو ٹکا تھا مِرے جواب کا مول
دُھوم ہر سو تِرے سوال کی تھی
دل جو ٹُوٹا تو یاد آیا ہمیں
چیز یہ کتنے دیکھ بھال کی تھی
جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں
جل رہی شمعِ ہستی اور ضیا باقی نہیں
گوشہ گوشہ جنتِ ارضی کا حبس آلود ہے
سانس کُھل کر لے سکیں اب وہ فضا باقی نہیں
ساتھ اُڑا کر لے گئیں اپنے ہوس کی آندھیاں
نقشِ پا کوئی سرِ دشتِ وفا باقی نہیں
دیکھ لڑکی تِری چاہتیں جُرم ہیں
تو کیا یہ سچ ہے کہ میری ہر بات خواب ہو گی
یہ میری ہستی جو اتنے طُوفان جھیلتی ہے سراب ہو گی
تو کیا یہ سچ ہے کہ ڈور سانسوں کی توڑ دو گے
زمانے والو
سُنا ہے تم مجھ کو دشتِ ویراں میں چھوڑ دو گے
زندگی پر غموں کا سایا ہے
کل جو اپنا تھا اب پرایا ہے
چھوڑ کر رسم و راہ دنیا کی
کون کب کس کے کام آیا ہے
کیوں ہوئیں نم یہ آپ کی آنکھیں
زخمِ دل ہم نے کب دِکھایا ہے
مِرا یہ ملک مُقدس کتاب جیسا ہے
ہر ایک فرد گُلوں میں گُلاب جیسا ہے
چراغ سب نے جلائے ہیں امن کے لیکن
اندھیرا وقت کا اک آفتاب جیسا ہے
ملیں نہ ہاتھ فقط دل سے دل بھی مل جائیں
یہ دیکھنے کو مجھے اضطراب جیسا ہے
سُوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے
زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے
یہ سُلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سُورج
مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے
آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دُشوار نہیں
چاہیے دل میں تڑپ حرفِ دعا سے پہلے
حریف سنگ ہوں مٹی سے پیار کرتا ہوں
لہُو سے اپنے گُلابوں میں رنگ بھرتا ہوں
قدم قدم پہ تِرا انتظار کرتا ہوں
میں زندگی کے تجسس میں روز مرتا ہوں
بدن کے زخم صداقت پہ میری ہنستے ہیں
جب آئینے کے تخاطب سے میں گُزرتا ہوں
تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا
میں جی رہا ہوں مگر جان و مال ہے اس کا
وہ زینہ زینہ اُترنے لگے تو سب بُجھ جائے
وہ بام پر ہے تو سب ماہ و سال ہے اس کا
میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں
کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا
فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے
چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے
اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی
بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے
چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا
ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے
سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھے
محبت تھی جھمیلے تو نہیں تھے
ہمارے دل میں ان کی چاہ تھی بس
ہم ان کے دل سے کھیلے تو نہیں تھے
نمی اس روز تھی چند آنسوؤں کی
ان آنکھوں میں یہ ریلے تو نہیں تھے
آج کا کرب تو کچھ اور بھی بڑھ کر نکلا
میرا ماضی ہی مِرے حال سے بہتر نکلا
سائے کی طرح جو رہتا تھا مِرے ساتھ کبھی
آج تو وہ مِرے سائے سے بھی بچ کر نکلا
میں تو سمجھا تھا کفن اوڑھ لیا سبزے نے
برف پگھلی تو وہ کچھ اور نکھر کر نکلا
سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر
تم بھی آ جاؤ ذرا کُنجِ غزل سے باہر
زندگی بکھری ہے پیچیدہ گُزرگاہوں میں
اور ہم رہتے رہے دشت و جبل سے باہر
سوہنیوں اور چنابوں میں ہے نِسبت اب بھی
اور سَسیاں بھی نہیں ہیں ابھی تھل سے باہر
اک یاد سو رہے کو اُٹھاتی ہے آج بھی
خُود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی
یہ کیسی مطربہ ہے جو چُھپ کر جہان سے
دھیمے سُروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی
صدیاں گُزر گئیں جسے ڈُوبے ہوئے یہاں
اس کو صدائے شوق بُلاتی ہے آج بھی
محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی
سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی
نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز
یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی
عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں
کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی
آنکھوں سے پی رُت مستانی ہو گئی
جام سے پینا رسم پرانی ہو گئی
کچھ ان کے بھی الہڑپن کی ہے خطا
تھوڑی ہم سے بھی نادانی ہو گئی
وقتِ سحر یہ کون چمن میں آ گیا
شرم سے شبنم پانی پانی ہو گئی
زمیں کے لب ہیں سِلے اور آسماں خاموش
تماشا دیکھتا رہتا ہے یہ جہاں خاموش
جو نُکتہ چینی سدا کرتا تھا مخالف پر
ہوئی ہے آج اسی شخص کی زباں خاموش
اُداسیوں میں گِھری جب سے ماں کو پایا ہے
تبھی سے رہنے لگے ہیں دل اور جاں خاموش
محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے
ہمیں پھر آرزؤں کا نگر آباد کرنا ہے
شکست فاش دینی ہے من و تو کے رویوں کو
مراسم کی بحالی کا ہنر ایجاد کرنا ہے
یہ کیا جبر تعلق ہے کہ پھر تیرے حوالے سے
کسی کو بھول جانا ہے کسی کو یاد رکھنا ہے
خواب
بہت آرام دہ دن تھا
تسلی کی نشستِ مہرباں پر
سر ٹکائے، پاؤں لٹکائے ہوئے
کہیں بیٹھا ہوا تھا میں
میرے آگے صبحِ (نو) کے طشت میں بکھرے ہوئے
اپنے اجداد کے گُم گشتہ زمانوں کی طرح
یادِ ماضی ہے میرے دل میں خزانوں کی طرح
ہیں طیورانِ چمن یادِ خُدا میں مشغول
نخل کی شاخوں پہ ہرصبح اذانوں کی طرح
اپنی پاکیزگیِ نفس کو میں پاتا ہوں
صحنِ احساس میں تسبیح کے دانوں کی طرح
میرے من کی آس اور احساس ہو تم
زندگی کی چاہ میں بہت خاص ہو تم
نہ دیکھوں تجھے تو رہتا ہے دل مضطر
سوچوں تو مِرے سر کی دستار ہو تم
میں طالب تِرا تُو تسبیح مِری یادوں کی
اور دعاؤں میں مانگی گئی فریاد ہو تم
ایک حرفِ مُدعا تھا داستاں کیسے ہُوا
ریگ کا یہ سِلسلہ آبِ رواں کیسے ہوا
وہ ابھی ہمراہ تھا اِس زندگی کے دشت میں
عُمر بھر کا ساتھ پل میں رائیگاں کیسے ہوا
آشنائی میں وہ چہرہ صُورتِ خُورشید تھا
اجنبی ہو کر وہی چہرہ دُھواں کیسے ہوا
مطلب کا کوئی شعر سُنائیں جہاں پناہ
ہم سامعیں پہ قہر نہ ڈھائیں جہاں پناہ
بچوں کو بھُوکے پیٹ سُلانے کے بعد ہم
کیسے غزل کے شعر سنائیں جہاں پناہ؟
ہر سُو بکھیرتا ہو برابر سی روشنی
ایسا بھی اِک چراغ جلائیں جہاں پناہ
قِسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا
آئینۂ یقیں پہ سیاہی نہ لاؤں گا
یا تو مِرے بیان پہ مُنصف یقیں کرے
یا پھر سزا لِکھے میں گواہی نہ لاؤں گا
اس دورِ نا شناس میں کچھ بھی کہوں مگر
اب داستاں میں ذکرِ وفا ہی نہ لاؤں گا
کیا حسیں رات ہے اس رات سے ڈرتے کیوں ہو
آ گئے ہو تو مُلاقات سے ڈرتے کیوں ہو
نام آتا ہے مِرا جب بھی کسی محفل میں
یہ بتاؤ کہ سوالات سے ڈرتے کیوں ہو
دل لُبھانے کے بھی انداز ہُوا کرتے ہیں
مست آنکھوں کے اشارات سے ڈرتے کیوں ہو
تمام شہر میں ہر سمت یوں اُجالا ہے
کہ جیسے رات کا اب بھید کُھلنے والا ہے
ہماری آنکھ سے اوجھل رہا جو سچ صدیوں
اسے زمیں نے برابر اُگل نِکالا ہے
میاں تمہاری طرف ہے فساد دولت کا
ہمارے ہاں تو لڑائی کی جڑ نِوالہ ہے
ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خُدا ہونا ہی تھا
میرے گِر جانے سے اس کا قد بڑا ہونا ہی تھا
اس شجر کے سُوکھ جانے کا سبب تنہائی تھی
اک پرندہ آ کے بیٹھا تو ہرّا ہونا ہی تھا
دام کچھ اپنے زیادہ لگ رہے تھے ان دنوں
پھر ہمیں بازار میں سب سے جُدا ہونا ہی تھا
ہر چند کہ ہر حال میں بیہوش مِلے ہیں
دیوانے مگر غم سے سبکدوش ملے ہیں
آنے کو ہم آ جائیں ابھی ہوش میں، لیکن
سرکار کہیں کھوئے ہوئے ہوش ملے ہیں
کیوں کر کبھی کرتے گِلۂ غم بھی کسی سے
ہم کو تو شبِ غم لبِ خاموش ملے ہیں
تمہاری زُلف کے سائے میں رات ٹھہری ہے
کہ رنگ و نُور لیے کائنات ٹھہری ہے
نہ اب جنُوں کی تمنّا نہ ہے خرد کی طلب
یہ کس مقام پہ آ کر حیات ٹھہری ہے
نہ پُوچھ کیسے گُزاری ہے زندگی ہم نے
قدم قدم پہ المناک رات ٹھہری ہے
جوان موسم تھا ہم نے یہ دل کسی کے آنگن میں رکھ دیا تھا
یہ دل کے نازک معاملے ہیں ہمارا اس میں قصور کیا تھا
بچھڑ کے مجھ سے وہ مطمئن ہے یہ ساری جھوٹی کہانیاں ہیں
میں جب بھی گزرا تھا اس گلی سے تو وہ دریچہ کُھلا ہوا تھا
خدا گواہ کہ مہ رخوں سے کبھی تقاضے کیے نہ شکوے
وفائیں کرنا، دعائیں دینا ہی ہم فقیروں کا مدعا تھا
ہر سمت تھی بہار خزاں کا گزر نہ تھا
لیکن ہمارے ساتھ کوئی راہبر نہ تھا
جس نے خِرد کی راہ دکھائی بہار میں
وہ راہ میں جنوں کی مِرا ہمسفر نہ تھا
قیدِ حیات و موت میں کیوں اتنی الجھنیں
ایسا تو راستہ یہ کوئی پُر خطر نہ تھا
جیسے مدھوبن کی بالا
نیند اب رات بھر نہیں آتی
اک خوشی بھی ادھر نہیں آتی
شبِ فُرقت کٹے گی ہائے کب
کیوں آخر سحر نہیں آتی
جگمگا جاتی ہے شہر سارا
روشنی میرے گھر نہیں آتی
مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا
وفا پرست رُتوں کا جو شخص حاصل تھا
وہ میری ذات کی پہچان بھی تعارف بھی
مِرے لہو میں بہ رنگِ حیات شامل تھا
حسین رات تھی ہاتھوں میں ہاتھ تھے ہم تھے
کنارِ آب خموشی تھی، ماہِ کامل تھا
کہانی ٹھیک بنتی ہے نظارے ٹھیک ملتے ہیں
عموماً وقت اچھا ہو تو سارے ٹھیک ملتے ہیں
وجہ اک دوست یہ بھی ہے تعلق کو بڑھانے کی
کہ ہم دونوں کے آپس میں ستارے ٹھیک ملتے ہیں
تمہارا یوں مُکر جانا،۔ اچانک یوں بدل جانا
تو مطلب مجھ کو خوابوں میں اشارے ٹھیک ملتے ہیں
اداس راتیں ہیں خواب سارے اُجڑ چکے ہیں
ہے آنکھ ویراں کہ سب نظارے اجڑ چکے ہیں
مِری زمیں پہ گُلوں کے چہرے جُھلس گئے ہیں
مِرے فلک کے وہ چاند تارے اجڑ چکے ہیں
جو میرے آنسُو شُمار کرتے، جو پیار کرتے
وفا کے پیکر سبھی سہارے اجڑ چکے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں تو معلوم نہیں کیا ہے حقیقت اپنی
مُستند ہے درِ حسّان سے نسبت اپنی
کوئی پُوچھے تو حوالہ تِرا دے دیتے ہیں
یوں تِرے نام سے ہو جاتی ہے عزت اپنی
نعت ہو، شعر ہو، نغمہ ہو، ثنا خوانی ہو
ان تک آواز تو پہنچے کسی صُورت اپنی
ہر اک موسم یہاں پر ہے تمہاری یاد کا موسم
کبھی بدلا نہیں ہے اس دل ناشاد کا موسم
یہ سناٹوں کے سوداگر کہاں برداشت کرتے ہیں
کہ ہو گونگوں کی بستی میں لبِ آزاد کا موسم
مِری دھرتی کی زرخیزی میں ظلم و جور پھلتے ہیں
ہمیشہ بے ثمر ٹھہرا ہے یاں فریاد کا موسم
کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں
میرے سب خواب کھو گئے مجھ میں
سادگی میری ڈھونڈ لائی تمہیں
تم تھے چالاک کھو گئے مجھ میں
ان کے ہونے سے میرا ہونا ہے
لفظ لولاک ہو گئے مجھ میں
زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا
روبرو لیکن مِرا سر خم رہا
میرا دامن آنسوؤں سے نم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
آسماں سے یوں اتر کر آ گئی
گلستاں شرمندۂ شبنم رہا
ذرا سی بات پر مجھ سے خفا ہونے لگا ہے
جو پیکر تھا وفا کا، بے وفا ہونے لگا ہے
خزاں میں پتی پتی مجھ کو ہوتا دیکھ کر وہ
ہوا کا ہاتھ تھامے، اب جدا ہونے لگا ہے
غم دنیا کی جھلسانے لگی ہے دھوپ ہم کو
خیال یار ہی اب تو ردا ہونے لگا ہے
تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے
چلو جیسے تمہیں بہتر لگا ہے
اسے دنیا سے دلچسپی ہوئی ہے
مجھے اس حادثے سے ڈر لگا ہے
نشانہ ہی غلط باندھا گیا تھا
ہدف پر بھی خطا ہو کر لگا ہے
ہجومِ دلبراں ہے میں نہیں ہوں
یہاں سارا جہاں ہے میں نہیں ہوں
جسے سُن کر زمانہ جُھومتا ہے
وہ میری داستاں ہے میں نہیں ہوں
نہاں کیا، حرفِ کُن کے بھید میں ہے
خدا ہی رازداں ہے میں نہیں ہوں
درونِ دل اگرچہ تیرگی ہے
شبِ ظلمت کے پیچھے روشنی ہے
نہیں مایوس ہونے کی ضرورت
محبت کے نگر میں بے کلی ہے
جہانِ رنگ و بُو کے رُوپ میں سب
غموں کی دُھوپ ہے اور بے بسی ہے
گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی
میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی
کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا
میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی
کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن
راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی
خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے
شکایتوں کے لیے رخ نکال لایا ہے
یہ کہہ کے اس نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا
وہ میرے بیتے ہوئے ماہ و سال لایا ہے
ذرا سی دیر میں صدیوں کا بن گیا ضامن
یہ کس مزاج کا حرف کمال لایا ہے
رنگ لائی دعا معجزہ ہو گیا
جو نہیں تھا میرا وہ میرا ہو گیا
ساتھ جینا ہے اور ساتھ مرنا ہے اب
فیصلہ کر لیا،۔ فیصلہ ہو گیا
ایسا لگتا ہے تم کو نظر لگ گئی
تم تو ایسے نہ تھے، تم کو کیا ہو گیا
پر تو بس ہمتِ پرواز سے پر بنتا ہے
سر میں سودا ہو مِری جان! تو سر بنتا ہے
لوٹ آئے ہیں پرندے مِری دیواروں پر
چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے
وہ پری رخ مِرے خوابوں میں پلٹ آتا ہے
گنبدِ وقت میں جب رات کا در بنتا ہے
پڑی افتاد کچھ ایسی کہ دل سنبھلا نہیں ہے
"مگر تم نے مِری جاں مسئلہ سمجھا نہیں ہے"
قبیلہ ایک ہے اپنا تعلق اور کیا ہے
سو اپنے درمیاں ایسا کوئی جھگڑا نہیں ہے
بہت مضبوط ہیں اعصاب لیکن اے مِرے دل
تِرا ہر جبر سہ لوں، حوصلہ ایسا نہیں ہے
ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی
پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی
بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں
بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی
بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے
ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی
طوفانوں کی آہٹ ہے تو ڈر جانے سے کیا ہو گا
آؤ میرا ہاتھ پکڑ لو، گھبرانے سے کیا ہو گا
میٹھی میٹھی بات سے دل کو بہلانے سے کیا ہو گا
وقت پہ جب تم آئے نہیں تو اب آنے سے کیا ہو گا
اس نے مجھ کو دیکھ کے شاید ایسا ہی کچھ سوچا تھا
فرزانوں کی بھیڑ لگی ہے، دیوانے سے کیا ہو گا
سوال شام پہ آیا جواب شب آخر
کشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخر
تمہارے غم مرے خواہاں نہ میرا اپنا وجود
کہاں سے لاؤں گی میں شدت طلب آخر
عنایت ان کی جو وہ حال پوچھ لیں ورنہ
کسی سے ان کے مراسم ہوئے ہیں کب آخر
کہنے کو زمانے کی فضا کاٹ رہی ہے
تلوار سی خود اپنی انا کاٹ رہی ہے
کیوں خود سے پریشاں ہے بتا زندگی مجھ کو
کیا میری طرح تُو بھی سزا کاٹ رہی ہے
میں کیسے حفاظت کروں دستار کی اپنی
اب جسم کو میری ہی رِدا کاٹ رہی ہے
کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے
تو دولت مند کا سامان ہوتا ہے
درونِ دل اگر ایمان ہوتا ہے
تو پھر جینا بڑا آسان ہوتا ہے
ہتھیلی پر جو سر رکھے لڑائی میں
اسی کی جیت کا اِمکان ہوتا ہے
بول نہ اے مِرے بھگوان نہیں ہو سکتا
راستہ زیست کا آسان نہیں ہو سکتا
جس نے لُوٹا ہو غریبوں کو مسیحا بن کر
کچھ بھی ہو چاہے وہ انسان نہیں ہو سکتا
حاکمِ شہر کے ہر داؤ سے واقف ہوا میں
اب کسی داؤں پہ حیران نہیں ہو سکتا
تیرے دیوانے تِرے کوچے سے جب گزرے ہیں
غم بہ دل، خاک بہ سر، آہ بہ لب گزرے ہیں
مسکراتے ہوئے جھیلے ہیں رفیقو! ہم نے
حادثے جو بھی سرِ راہِ طلب گزرے ہیں
یہ تو سب کچھ ہے بجا ناصحِ مشفق! لیکن
ہم پہ گزرے ہیں جو دن تم پہ وہ کب گزرے ہیں
"حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے"
دل کا عالم خراب دیکھا ہے
آئے وہ میرے گھر بصد تمکیں
میں نے شاید یہ خواب دیکھا ہے
مست کر دے جو سارے عالم کو
وہ کسی کا شباب دیکھا ہے
میں تمدّن ہوں روایت نہ سمجھ
مجھ کو بوسیدہ عمارت نہ سمجھ
حال نے کھینچے ہیں سب خطِ بدن
عہدِ رفتہ کی عبارت نہ سمجھ
میری مُٹھی میں ہے لمحوں کا نظام
میں صدی ہوں، مجھے ساعت نہ سمجھ
شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
وہ آفتاب تھا روشن اساس چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا مِلنے کی آس چھوڑ گیا
ضرورتوں کو بُلا کے ہوس کی سرحد پر
بنا کے مجھ کو ضعیف الحواس چھوڑ گیا
قضا کے رتھ سے اُترتے ہی ڈُوبتا سُورج
شبِ سیاہ کے ہاتھوں میں راس چھوڑ گیا
اک غزل تو مِرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے
کاش کے تُو مِرا محبوب خیالی ہو جائے
دیکھ لے تو مِری جانب جو اٹھا کر نظریں
چشمِ پُر نم جو تِری ہے وہ غزالی ہو جائے
چاند سے رخ پہ جو پھرتے ہو لگا کر گاگل
عید کر لے نہ کوئی کچھ کی دیوالی ہو جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بلائیے مِرے آقاﷺ مجھے مدینے میں
پڑا ہوں ہِند میں مرنے میں ہوں نہ جینے میں
جلا کے خاک سیہ کر دیا کلیجے کو
بھڑک کے آتشِ فرقت نے میرے سینے میں
یہی رہا غمِ فرقت تو مار ڈالے گا
گُھلا گُھلا کے مجھے سال چھ مہینے میں
کہارن
اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لیے
زیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیے
مست تھی اس کی ادائیں خوب تھا اس کا شباب
آنکھیں نرگس زلف سنبل عارض رنگیں گلاب
آ کے پنگھٹ پر کسی سے گفتگو کرنے لگی
ڈال کر رسی کو پانی کھینچ کر بھرنے لگی
دِیے پلکوں کے سارے بُجھ رہے ہیں
سرِ شب ہی ستارے بجھ رہے ہیں
ان آنکھوں نے جنہیں روشن کیا تھا
وہ سب منظر ہمارے بجھ رہے ہیں
بہت کم ہو چلی ہے آتشِ خاک
زمیں تیرے شرارے بجھ رہے ہیں
سائباں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
آسماں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
میری آنکھوں میں نمی ہے تیری آنکھوں کی طرح
کیوں جہاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
شہر کے پکے مکاں میں روشنی کی لہر سے
اک مکاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں
کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو
اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں
عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں
تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
ان مست انکھڑیوں کے اشارے نہیں رہے
وہ پیارے پیارے اب تو نظارے نہیں رہے
ہم ان کے ہو گئے، وہ ہمارے نہیں رہے
وہ پیارے پیارے ان کے اشارے نہیں رہے
یہ خوب ہے نصیب کہ وہ غیر کے ہوئے
تھا جن پہ ناز اب وہ ہمارے نہیں رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تاجدارِ حرم ہو نگاہ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے
ہادئ بیکساں کیا کہے گا جہاں آپؐ کے در سے خالی اگر جائیں گے
خوفِ طوفاں کہیں بجلیوں کا ہے غم سخت مشکل ہے آقاؐ کہاں جائیں ہم
آپؐ بھی گر نہ لیں گے ہماری خبر ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے
در پہ ساقیٔ کوثرﷺ کے پینے چلو،۔۔ مے کشو آؤ آؤ مدینے چلو
یاد رکھو اگر اُٹھ گئی وہ نظر جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
کبھی ہلکا، کبھی گہرا ہماری آنکھ کا کاجل
ہمارے غم سے وابستہ ہماری آنکھ کا کاجل
ہمارے سُرخ ہونٹوں کے تلے ہے اک طلسمی تِل
پھر اس پر کالے جادُو سا ہماری آنکھ کا کاجل
غزل میں بات ہوتی ہے غزال آنکھوں کے سُرمے کی
کوئی پھر کیوں نہیں لِکھتا ہماری آنکھ کا کاجل
اُکتا گئی ہے رُوح، فریبِ حیات سے
پرواز چاہتی ہے، اب اِس کائنات سے
بے رنگ ہو چکی مِری ہر ایک آرزو
بڑھ کر ہے درد میرا سبھی معجزات سے
بُجھنے کو ہے چراغ اُمیدوں کے شہر کا
دل کو بھی کوئی ربط نہیں واردات سے
کلی جو دل کی کِھلی تھی مسل گئی تاریخ
بہار جیسے ہی آئی، بدل گئی تاریخ
جو پَو پھٹی تو ہمیں ہوش آیا رات گئی
فریب آج بھی دے کر نِکل گئی تاریخ
اک اور وعدہ کا شدّت سے اِنتظار کیا
تمہارے وعدہ کی جب بھی بدل گئی تاریخ
جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے
اعمال کا معیار اگر خام نہیں ہے
دولت سے ہر اک چیز میسر نہیں ہوتی
ظالم کو کسی حال میں آرام نہیں ہے
ہوتے ہیں یہاں جس کے اشارے پہ تماشے
مجرم کے شمارے میں وہی نام نہیں ہے
گنوا نہ خُون پسینے کی کمائی میری
کیوں کھلیان میں گندم ہے جلائی میری
ایک مُدت سے تعاقب میں میرے قاتل ہے
تمہیں آواز دے رہی ہے سُنائی میری؟
تنکے تنکے سے میں نے آشیاں بنایا تھا
تُجھ کو محنت نہیں دیتی ہے دکھائی میری؟
ملو گے تم نہیں چاہا کرو گے
بتاؤ عاشقی کا کیا کرو گے
یقیں میں تم نے اپنا دل دیا تھا
وفا میں جان تم مانگا کرو گے
میں اپنی حد سے اب بیحد ہوئی ہوں
تو کیا سوچے بنا لوٹا کرو گے
بھُول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں
یاد پر آتا رہے یہ بھی گوارہ تو نہیں
دل دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے مِرا
وہ تمہارا، وہ تمہارا، وہ تمہارا تو نہیں
آج کل پتھر اُٹھا کر سوچتا ہے ہر کوئی
سامنے انسان ہے، لیکن ہمارا تو نہیں
اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے
زمانے دیکھ لڑائی کا وقت بھی نہیں ہے
تمہارے شہر نے پاگل بنا لیا لیکن
کسی کو راہنمائی کا وقت بھی نہیں ہے
مِرے خدا کوئی مجھ سے بِچھڑ رہا ہے اور
تُو جانتا ہے جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے
لفظوں کہ وسِیلے سے بیاں ہونے سے پہلے
آسان تھا یہ کام گِراں ہونے سے پہلے
تخلیق نے چھینا ہے مِرا حُسن بھی مجھ سے
اک راز تھا میں میرے عیاں ہونے سے پہلے
کس طرح کی بینائی تھی ان آنکھوں میں جانے
کچھ بھی نہ دِکھا جن کو دُھواں ہونے سے پہلے
یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے
کسی کی یاد میرے پاس آ کر لوٹ جاتی ہے
میں بد قسمت وہ گلشن ہوں خزاں جس کا مقدر ہے
بہار آتی ہے دروازے سے آ کر لوٹ جاتی ہے
اسے اپنا بنانے میں بھی اک انجان سا ڈر ہے
دعا ہونٹوں تلک آتی ہے آ کر لوٹ جاتی ہے
درد کی اک کتاب ہے کوئی
زندگی اضطراب ہے کوئی
تیرگی کی ادا بتاتی ہے
داؤں پر ماہتاب ہے کوئی
ہو گیا جس کو وہ ہوا تنہا
عشق بھی اک عذاب ہے کوئی
چہروں کی بھِیڑ میں اِنسان کہاں ہیں
اے زمیں! تیرے نِگہبان کہاں ہیں؟
لو دِیے کی بھی ہے یہ پُوچھتی اب تو
بُجھا دیں مجھ کو جو طُوفان کہاں ہیں
ہے مِرے شہر میں ہر شے ہی میسّر
پُورے ہوتے مگر ارمان کہاں ہیں
ٹِمٹماتا ہوا مندر کا دِیا ہو جیسے
تیری آنکھوں میں کوئی خواب چُھپا ہو جیسے
پھیر لیں تم نے نگاہیں تو یہ محسوس ہوا
مجھ سے رُوٹھی ہوئی تاثیرِ دُعا ہو جیسے
گُونجتی ہے مِرے کانوں میں یوں آواز تِری
کوہ و صحرا میں اذانوں کی صدا ہو جیسے
وہ جو دن ہجر یار میں گُزرے
کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے
وہی حاصل تھے زندگانی کے
چار دن جو بہار میں گزرے
کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم
دلِ بے اعتبار میں گزرے
سودائے شہادت نہ ہو جس سر میں وہ سر کیا
جس میں نہ حرارت ہو نہ حرکت وہ شرر کیا
نکہت ہو نہ رنگت تو چمن میں گُلِ تر کیا
جب علم و ہُنر ہو نہ بشر میں تو بشر کیا
جُھک جائے عدُو کا بھی نہ سر جس پہ وہ در کیا
ماحول مسرّت کا نہ ہو جس میں وہ گھر کیا
تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں
عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں
نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں
تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں
کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں
ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں
نے کا نے نام رکھ دیا کس نے؟
نے میں پیغام رکھ دیا کس نے؟
مختصر سی حیات میں جانے
اس قدر کام رکھ دیا کس نے؟
دل کی بے تابیوں کے عالم کا
زندگی نام رکھ دیا کس نے؟
یہ کیف حُسن اس پہ یہ مستی شباب کی
یہ آپ ہیں کہ موج ہے کوئی شراب کی
سُونی ہے بزمِ عالمِ اِمکاں تِرے بغیر
ظُلمت ہے روشنی بھی شبِ ماہتاب کی
کیوں میری لغزشوں پہ زمانہ ہے طعنہ زن
سب لغزشیں معاف ہیں عہدِ شباب کی
کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا
برہنہ آج وہ اُترا ہوا گلاس میں تھا
ہم آفتاب درخشاں جسے سمجھتے تھے
وہ ایک وہم کا جگنو ہوس کی گھاس میں تھا
زمین و عرش کی تقسیم کے زمانے میں
بشر اسیر جنوں تھا کہاں حواس میں تھا
اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو
اور تُو بھی مصروف نو ایام ہو
اِس سے پہلے کہ میں زیست گروی رکھ دوں
کسی اور کے پاس
اِس سے پہلے کہ تیرے ہاتھوں کا لمس
تیرے لبوں کی مسیحائی اور تیرے لہجے کی پزیرائی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے علمِ بشر کتنا سرکارﷺ کے بارے میں
ہم لوگ کہیں گے کیا، سرکارؐ کے بارے میں
اے شوق سخن گوئی! ہے شرط ادب اول
کچھ کھیل نہیں کہنا، سرکارؐ کے بارے میں
پیکر ہے تو بے سایہ، ٹپکا ہے تو بے جسمی
کیا کیا ہوا دھوکا، سرکارؐ کے بارے میں
گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر
حیرت ہے حُسن حسرتِ دِیدار دیکھ کر
نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی
جی بُجھ گیا ہے تم کو💔 دلآزار دیکھ کر
اس دِلفگارِ شوق کی حسرت نہ پُوچھیے
مجرُوح ہو گیا ہو جو تلوار 🗡 دیکھ کر
وہ بگڑتے ہی رہے کِھسکے نہ اس محفل سے ہم
اپنی عادت سے تھے وہ مجبور، اپنے دل سے ہم
تھا رقیبوں کا اک ہنگامہ بچے مُشکل سے ہم
جُوتا ٹوپی چھوڑ کر بھاگ آئے اس محفل سے ہم
جان کے ٹکراتے ہم،۔ دونوں تلے اوپر گِرے
وہ اُدھر رکشا سے اُلٹے اور اِدھر سائیکل سے ہم
سچ کی آواز کا سُولی پہ بھی رد ہے حد ہے
تم اگر جھُوٹ بھی بولو تو سند ہے، حد ہے
تم تو سُورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال
اک دِیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے
میں کہ مسجُود ملائک تھا کبھی داورِ حشر
میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے
جیسے کسی کا حرفِ محبت مِری غزل
یعنی مِرے خلوص کی نُدرت مری غزل
ظُلمت کدوں میں چاند کی مانند روشنی
تشنہ لبوں کے واسطے راحت مری غزل
میداں میں آ کے نوش تو فرمائیے جناب
چھلکا رہی ہے جامِ شہادت مری غزل
ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے
ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے
سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا
ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے
وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں
ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے
ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طواف کعبہ
اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
حال ابتر اُداس لوگوں کا
کون رہبر اداس لوگوں کا
ہے اُداسی محیط ہر شے پر
درد پیکر اداس لوگوں کا
ایک فِرقہ مجھے زمانے میں
ہے میسّر اداس لوگوں کا
صحن گُلشن میں چاندنی دیکھیں
حُسن تکمیل زندگی دیکھیں
آؤ فطرت کی دیکھیں رعنائی
پتیاں کچھ ہری ہری دیکھیں
میرا ہر شعر ہے نشان حیات
میرا انداز شاعری دیکھیں
دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا
اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے
غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے
کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے
اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے
کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو
سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے
شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں
حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں
جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے
کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں
مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور
مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں
چین دل کو نہ آئے گا کب تک
وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک
اے ستمگر! تِرے ستم آخر
کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک
ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو
آسماں تو ستائے گا کب تک
اپنی ہستی یاد ہے
قبر کی مٹی یاد ہے
آنکھ میں تیرے خواب ہیں
دل میں تیری یاد ہے
یوں تو یادیں اور بھی
ایک سُہانی یاد ہے
کہیں پہ دُھوپ کہیں پر ہیں سائبان بہت
قدم قدم پہ ہیں دنیا میں امتحان بہت
مجھے سپرد تو لوگوں نے کر دیا اس کے
مگر عزیز ہے قاتل کو میری جان بہت
اگر یہ چاہے تو اک پل میں انقلاب آئے
ہماری قوم میں ایسے ہیں نوجوان بہت
صدی میں جھُوٹ کی میں جی رہا ہوں
مُسلسل زہر سچ کا پی رہا ہوں
گواہی ظُلم کے حق میں نہ جائے
لبوں کو اپنے پھر میں سی رہا ہوں
کبھی دیوانے تیرے جو رہے ہیں
شریک ان کا کبھی میں بھی رہا ہوں
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
٭وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اُگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گناہوں سے ہمیں اب تو بچانا یا رسول اللہﷺ
ہدایت کا ہمیں رستہ دکھانا یا رسول اللہﷺ
کدھر جائیں سوا تیرے یہاں کوئی نہیں اپنا
سہارا آپ ہیں اپنا بنانا یا رسول اللہﷺ
زمانہ جھڑکیاں دیتا رہا ہم کو زمانے میں
شفاعت کا ہمیں دامن تھمانا یا رسول اللہﷺ
کوئی ٹھوکر اس نے جب کھائی نہ تھی
زندگی یہ راہ پر آئی نہ تھی
آپ کی باتیں تھیں باتیں ہی فقط
آپ کی باتوں میں گہرائی نہ تھی
ہر قدم پر رنج و غم تھے منتظر
کس جگہ میری پذیرائی نہ تھی
اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
رب کا دُنیا کو بنانا عشق ہے
سجدہ آدم کو کرانا عشق ہے
آگ کا گُلزار ہونا معجزہ
آگ میں بے خوف جانا عشق ہے
دیکھنا ماں کو عبادت ہے، مگر
دیکھ کر پھر مُسکرانا عشق ہے
آج تو کوئی پلا دے بھر کے پیمانے میں آگ
جس سے لگ جائے دل غمگیں کے غم خانے میں آگ
تھی سبُو میں جام میں شیشے میں پیمانے میں آگ
آگ ہی چاروں طرف تھی سارے مے خانے میں آگ
آپ چاہے نام اس کا مختلف رکھ لیں مگر
ایک ہی جلتی ہے کعبے اور بت خانے میں آگ
راہ کے انبوہ میں تنہا نظر آیا ہوں میں
ہمسفر اپنا سپرد خاک کر آیا ہوں میں
اوس کو ترسے ہوئے تھے اس کی آنکھوں کے گُلاب
قطرہ قطرہ اشک ہر پتی میں بھر آیا ہوں میں
اک دفینے کی طلب میں رُل گیا ہوں خاک میں
زینہ زینہ دھیان کی سیڑھی اتر آیا ہوں میں
قلم جُدائی پہ نوحے لِکھتا ہے
تمہارے جانے کا یہ نوحہ ساری کائنات نے
میرے ساتھ لِکھا ہے
ہم سب فِراق، نصیب، ہجر کا موسم اوڑھے
ایک دوسرے سے پِیٹھ موڑے بیٹھے ہیں
جُدائی کے پتے بالوں میں اُلجھے ہیں
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
اپنی ہستی کی کچھ خبر ہی نہیں
ہم پڑے ہیں کچھ ایسے غاروں میں
روشنی کا جہاں گزر ہی نہیں
اکرم کلیم
سر کھپائیں نہ زمانے والے
ہم سمجھ میں نہیں آنے والے
بارِ غم، بارِ جنوں، بارِ خِرد
ہم تو ہیں بوجھ اُٹھانے والے
کیا کہیں جان کہاں ہاری تھی
کب یہ قِصے ہیں سُنانے والے
یہ وہم ہے کہ کسی وہم کا پتا بھی ہو
جو تُو بھی ساتھ رہے اور مِرا خُدا بھی ہو
سفر کا شوق ہے تجھ کو تو پھر یہ شرط ہے کیوں
رِدائے ابر ہو، سبزہ ہو، اور ہوا بھی ہو
کچھ اس طرح سے گُزر جا جنوں کی منزل سے
کہ ہوش بھی نہ ہو گُم اور کچھ نشہ بھی ہو
تیرے دِیدار کو آتے ہیں چلے جاتے ہیں
دو گھڑی عِید مناتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہم کو جو تیری طلب ہے تو فقط اتنی ہے
تجھ کو آنکھوں میں بساتے ہیں چلے جاتے ہیں
کبھی بھُولے سے تِرے ہاتھ جو چھُو لیں ہم کو
رُوح میں پھُول کھِلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے
عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے
شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے
تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے
دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے
جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے