میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے
عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے
شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے
تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے
دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے
جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے