Sunday, 12 July 2026

دل کا عالم خراب دیکھا ہے

 "حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے"

دل کا عالم خراب دیکھا ہے

آئے وہ میرے گھر بصد تمکیں

میں نے شاید یہ خواب دیکھا ہے

مست کر دے جو سارے عالم کو

وہ کسی کا شباب دیکھا ہے

میں نے اکثر گُناہگاروں پر

کرم بے حساب دیکھا ہے

چھُپتے ہیں اور چھُپ نہیں سکتے

ایسا رنگیں حجاب دیکھا ہے

جب ہوا امتحان حُسن و عشق

حُسن کو لا جواب دیکھا ہے

کیوں ہو جنت کی آرزو ہم نے

کوچۂ بُو ترابؑ دیکھا ہے


وفا نیازی

 مندرجہ ذیل مصرعِ طرحہ یا مصرحِ تضمین "بال سروپ راہی" کا ہے

"حسن کو بے نقاب دیکھا ہے"

No comments:

Post a Comment