Friday, 3 July 2026

اپنی ہستی یاد ہے قبر کی مٹی یاد ہے

 اپنی ہستی یاد ہے

قبر کی مٹی یاد ہے

آنکھ میں تیرے خواب ہیں

دل میں تیری یاد ہے

یوں تو یادیں اور بھی

ایک سُہانی یاد ہے

بھُولے بِسرے رابطے

خوابوں جیسی یاد ہے

جیسا ہے تُو پھُول سا

ویسی تیری یاد ہے

پاس بھی رہ کر دُور تھے

یہ بھی کیسی یاد ہے

بھُولے کب لاہور کو

پیار کی بستی یاد ہے

کاوش سچ سچ بولنا

کس کی آئی یاد ہے؟


آفتاب کاوش

No comments:

Post a Comment