اپنی ہستی یاد ہے
قبر کی مٹی یاد ہے
آنکھ میں تیرے خواب ہیں
دل میں تیری یاد ہے
یوں تو یادیں اور بھی
ایک سُہانی یاد ہے
بھُولے بِسرے رابطے
خوابوں جیسی یاد ہے
جیسا ہے تُو پھُول سا
ویسی تیری یاد ہے
پاس بھی رہ کر دُور تھے
یہ بھی کیسی یاد ہے
بھُولے کب لاہور کو
پیار کی بستی یاد ہے
کاوش سچ سچ بولنا
کس کی آئی یاد ہے؟
آفتاب کاوش
No comments:
Post a Comment