راہ کے انبوہ میں تنہا نظر آیا ہوں میں
ہمسفر اپنا سپرد خاک کر آیا ہوں میں
اوس کو ترسے ہوئے تھے اس کی آنکھوں کے گُلاب
قطرہ قطرہ اشک ہر پتی میں بھر آیا ہوں میں
اک دفینے کی طلب میں رُل گیا ہوں خاک میں
زینہ زینہ دھیان کی سیڑھی اتر آیا ہوں میں
جانتا ہوں موت کی اندھی گلی میں کچھ نہیں
پھر بھی اس اندھی گلی میں جھانک کر آیا ہوں میں
اک صدا دے کر خُدا جانے وہ کیوں چُپ ہو گیا
جس کو ملنے کی طلب لے کے ادھر آیا ہوں میں
چاند پچھلی رات بادل کی تہوں میں چُھپ گیا
کس لیے طاہر! فرازِ بام پر آیا ہوں میں
اکرم طاہر
No comments:
Post a Comment