کانچ کے خواب
جب تِرے کانچ کے
خواب کی کِرچیاں
میرے دل کی زمیں پر
پھواروں کی مانند برسنے لگیں
اور دھنسنے لگیں
ان کی تاثیر سے
کانچ کے خواب
جب تِرے کانچ کے
خواب کی کِرچیاں
میرے دل کی زمیں پر
پھواروں کی مانند برسنے لگیں
اور دھنسنے لگیں
ان کی تاثیر سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
علیؑ حُسنِ جہاں بانی، علیؑ تفسیرِ قرآنی
علیؑ کے دم سے قائم ہے دلوں میں نورِ ایمانی
تصوف کے چمن کا باغباں کوئی نہیں ایسا
اسی کے سر پہ سجتا ہے ولا کا تاجِ سلطانی
دہکتی ریت پر لختِ جگر اُن کے ہوئے قرباں
انہی کے خونِ اقدس سے ہے روشن دیں کی پیشانی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ آ رہی ہے مسلسل صدا مدینے سے
"ہر ایک دکھ کی ملے گی دوا مدینے سے"
کبھی کسی کی جفاؤں سے غمزدہ نہ ہوا
ہمارے دل کا تعلق رہا مدینے سے
بفیضِ فاطمہؑ زہرأ ہر ایک بانو کو
ملی ہے شرم و حیا کی ردا مدینے سے
ایک مدت کی ریاضت سے کمائے ہوئے لوگ
کیسے بچھڑے ہیں مِرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
تلخ گوئی سے ہماری تُو پریشان نہ ہو
ہم ہیں دُنیا کے مصائب کے ستائے ہوئے لوگ
اس زمانے میں مِرے یار کہاں ملتے ہیں؟
اپنے دامن میں محبت کو بسائے ہوئے لوگ