عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عرش تک آج بھی وہ راہگزر روشن ہے
اب بھی تاروں کی طرح گرد سفر روشن ہے
آبِ اخلاقِ منور سے ہوا ہے سیراب
باغِ توحید کا اک ایک شجر روشن ہے
صرف انگشتِ مبارک کا کرم ہے اس پر
ٹکڑے ہو کر بھی سراپائے قمر روشن ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عرش تک آج بھی وہ راہگزر روشن ہے
اب بھی تاروں کی طرح گرد سفر روشن ہے
آبِ اخلاقِ منور سے ہوا ہے سیراب
باغِ توحید کا اک ایک شجر روشن ہے
صرف انگشتِ مبارک کا کرم ہے اس پر
ٹکڑے ہو کر بھی سراپائے قمر روشن ہے
سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے
یہ دل تباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے
غموں سے شغل رفاقت تو خیر مشکل تھا
مگر نباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے
طلسم جنت آدم تھا رات کا منظر
جو ہم گناہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے
عید کا چاند دیکھ کر
صبح خیرات کے آنگن میں غریبی ہو گی
پھر وہی صدقۂ جاں اب کے برس پائیں گے
اور ہر دست مخیر میں چمکتے سکے
ملگجے جسموں کی حالت پہ ترس کھائیں گے
غم کے تپتے ہوئے صحرا پہ خوشی کے بادل
بے ارادہ ہی سر راہ برس جائیں گے
پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی
جب حصار غم میں گزری زندگی اچھی لگی
ایک پتھر پھینکنے پر گاؤں کے تالاب میں
پُر سکوں موجوں کی اکثر برہمی اچھی لگی
شب کی تنہائی میں دروازے پہ دستک دفعتاً
گُھپ اندھیرے میں اچانک روشنی اچھی لگی
ترکِ اُلفت میں ہے آرام بہت
گُل رخو! ہو چکے بدنام بہت
ہم ہی نادان تھے جرأت نہ ہوئی
کوئی آیا تو لبِ بام بہت
ہو مقدر تو قدم چُومے گی
سمتِ منزل تو ہیں دو گام بہت