Showing posts with label معظم علی. Show all posts
Showing posts with label معظم علی. Show all posts

Thursday, 31 October 2024

عرش تک آج بھی وہ راہگزر روشن ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 عرش تک آج بھی وہ راہگزر روشن ہے

اب بھی تاروں کی طرح گرد سفر روشن ہے

آبِ اخلاقِ منور سے ہوا ہے سیراب

باغِ توحید کا اک ایک شجر روشن ہے

صرف انگشتِ مبارک کا کرم ہے اس پر

ٹکڑے ہو کر بھی سراپائے قمر روشن ہے

Wednesday, 15 May 2024

سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے

 سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے 

یہ دل تباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے 

غموں سے شغل رفاقت تو خیر مشکل تھا 

مگر نباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے 

طلسم جنت آدم تھا رات کا منظر 

جو ہم گناہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے 

Monday, 13 May 2024

صبح خیرات کے آنگن میں غریبی ہو گی

 عید کا چاند دیکھ کر


صبح خیرات کے آنگن میں غریبی ہو گی

پھر وہی صدقۂ جاں اب کے برس پائیں گے

اور ہر دست مخیر میں چمکتے سکے

ملگجے جسموں کی حالت پہ ترس کھائیں گے

غم کے تپتے ہوئے صحرا پہ خوشی کے بادل

بے ارادہ ہی سر راہ برس جائیں گے

Sunday, 12 May 2024

پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی

 پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی

جب حصار غم میں گزری زندگی اچھی لگی

ایک پتھر پھینکنے پر گاؤں کے تالاب میں

پُر سکوں موجوں کی اکثر برہمی اچھی لگی

شب کی تنہائی میں دروازے پہ دستک دفعتاً

گُھپ اندھیرے میں اچانک روشنی اچھی لگی

Saturday, 11 May 2024

ترک الفت میں ہے آرام بہت

 ترکِ اُلفت میں ہے آرام بہت 

گُل رخو! ہو چکے بدنام بہت 

ہم ہی نادان تھے جرأت نہ ہوئی 

کوئی آیا تو لبِ بام بہت 

ہو مقدر تو قدم چُومے گی 

سمتِ منزل تو ہیں دو گام بہت