Showing posts with label علی عابد. Show all posts
Showing posts with label علی عابد. Show all posts

Tuesday, 25 April 2023

سزا کے بعد مجھے جب رہائی دینے لگا

 سزا کے بعد مجھے جب رہائی دینے لگا

میں صاف ہو کے بھی اس کو صفائی دینے لگا

سمجھ رہا تھا وہ اندھا مجھے محبت میں

پھر اس نے دیکھا کہ مجھ کو دکھائی دینے لگا

کُھلے ہیں رِزق کے مجھ پر ہزاروں دروازے 

میں ماں کے ہاتھ میں جب سے کمائی دینے لگا

Wednesday, 1 March 2023

سنی گئی ہے یہ افواہ میرے بارے میں

 سنی گئی ہے یہ افواہ میرے بارے میں 

میں مشوروں سے رہا عمر بھر خسارے میں

تمہارے بعد اسے پڑھ رہا ہوں کثرت سے

لکھی ہے صبر کی تلقین جس سپارے میں

بروز حشر اگر بولنے کا موقع ملا 

خدا سے بات کروں گا تمہارے بارے میں

Saturday, 30 April 2022

پھول مہتاب ستاروں کی ضرورت کیا ہے

 پھول مہتاب ستاروں کی ضرورت کیا ہے

تم اگر ہو تو بہاروں کی ضرورت کیا ہے

چھوڑ کے جاتے ہوئے ہاتھ ہلانے والے

تیرے اندھوں کو اشاروں کی ضرورت کیا ہے

جن کی آنکھوں میں تِری آنکھیں رہا کرتی ہوں 

ان کو پھر اور نظاروں کی ضرورت کیا ہے

Thursday, 24 March 2022

یوں مسافت اڑان سے نکلے

 یوں مسافت اڑان سے نکلے

تیر جیسے کمان سے نکلے

کوئی پوچھے کہ زندگی کیا ہے

نام تیرا زبان سے نکلے

اس نے تذلیل کرکے بھیجا ہے

ہم سمجھتے ہیں شان سے نکلے

Friday, 18 February 2022

لگا کے سرمہ سجا کے آنکھیں

 لگا کے سرمہ سجا کے آنکھیں

حسیں ہتھیلی میں اک چنبیلی کا پھول لے کے

وہ یونیورسٹی کے لان میں جب بھی گھومتی ہے

تو ایسے لگتا ہے 

جیسے پھولوں پہ ایک تتلی مچل رہی ہو

کہ جیسے جنگل میں مورنی اک ٹہل رہی ہو

Monday, 31 January 2022

خبر نہیں اس نے بات کی ہے یا مارے پتھر

  خبر نہیں اس نے بات کی ہے یا مارے پتھر

کہ اس کی آنکھوں کے لگ رہے تھے اشارے پتھر

گزر نہیں ہے ہماری آنکھوں میں پانی کا بھی

مگر تمہاری کرامتوں سے گزارے پتھر

کوئی تمہارے ستم کی فریاد کررہا ہے

یہ کس کو وحشت میں یاد آئے تمہارے پتھر

Friday, 28 January 2022

ہزار لوگوں میں بس دو یا تین مشکل سے

 ہزار لوگوں میں بس دو یا تین مشکل سے

خدا بناتا ہے تجھ سے حسین مشکل سے

یہ کیسے لوگ ہیں ہونٹوں کو چوم لیتے ہیں

کہ ہم نے چومی فقط اک جبین مشکل سے

فرشتو! آؤ، کرو مل کے میرا استقبال

بچا کے لایا ہوں دنیا سے دِین مشکل سے

Wednesday, 19 January 2022

کوئی جو تیری خبر آ کے مہ جبیں دیتا

 کوئی جو تیری خبر آ کے مہ جبیں دیتا

اسے میں خلد کے باغوں سے کچھ زمیں دیتا

کبھی بھی چاہا نہیں کچھ تِرے سوا لینا

خدا وگرنہ تمہارے سے بہتریں دیتا

کہاں کہاں سے پرندے لپکتے اس کی طرف

صدا وہ اپنے کبوتر کو جب کہیں دیتا

Tuesday, 18 January 2022

بتلائے محبت کا کوئی حل اسے کہنا

بتلائے محبت کا کوئی حل اسے کہنا

کٹتا ہی نہیں ہجر میں اک پل اسے کہنا

رہ جاتے ہیں دنیا میں کئی کام ادھورے

ہر شخص کی قسمت میں نہیں کل اسے کہنا

ہم پہلی ملاقات سے اب تک نہیں نکلے

اٹکا تھا گھڑی میں تِرا آنچل اسے کہنا

Monday, 3 January 2022

کسی کی موت پہ یہ لوگ کب اداس رہے

 کسی کی موت پہ یہ لوگ کب اداس رہے

تمہارے بعد مگر سب کے سب اداس رہے

عجب ہوا تھا بچھڑتے سمے ہمارے ساتھ

کہ آنکھ ہنستی رہی، اور لب اداس رہے

خیال رکھتا ہوں اپنا کہ ماں اداس نہ ہو

میں چاہتا ہی نہیں ہوں کہ رب اداس رہے

Wednesday, 27 October 2021

اداس رہ کے ہنسی اختیار کرتے ہیں

 اداس رہ کے ہنسی اختیار کرتے ہیں

ہم ایسے لوگ خزاں کو بہار کرتے ہیں

میں نفرتوں سے نمٹنا تو خوب جانتا ہوں

مگر یہ لوگ محبت سے وار کرتے ہیں

ہماری عمر وہی تھی جو تیرے ساتھ کٹی

کہ تیرے بعد فقط دن شمار کرتے ہیں

Tuesday, 19 October 2021

غموں کی دھوپ کا جب بھی بیان لکھتا ہوں

 غموں کی دھوپ کا جب بھی بیان لکھتا ہوں

تو زلفِ یار کو میں سائبان لکھتا ہوں

مکین تم ہو جو اس دل کے تو مبارک ہو

تمہارے نام یہ دل کا مکان لکھتا ہوں

جسے خیال کی رفعت بلند کرتی ہے

میں اس زمین کو بھی آسمان لکھتا ہوں