سزا کے بعد مجھے جب رہائی دینے لگا
میں صاف ہو کے بھی اس کو صفائی دینے لگا
سمجھ رہا تھا وہ اندھا مجھے محبت میں
پھر اس نے دیکھا کہ مجھ کو دکھائی دینے لگا
کُھلے ہیں رِزق کے مجھ پر ہزاروں دروازے
میں ماں کے ہاتھ میں جب سے کمائی دینے لگا
سزا کے بعد مجھے جب رہائی دینے لگا
میں صاف ہو کے بھی اس کو صفائی دینے لگا
سمجھ رہا تھا وہ اندھا مجھے محبت میں
پھر اس نے دیکھا کہ مجھ کو دکھائی دینے لگا
کُھلے ہیں رِزق کے مجھ پر ہزاروں دروازے
میں ماں کے ہاتھ میں جب سے کمائی دینے لگا
سنی گئی ہے یہ افواہ میرے بارے میں
میں مشوروں سے رہا عمر بھر خسارے میں
تمہارے بعد اسے پڑھ رہا ہوں کثرت سے
لکھی ہے صبر کی تلقین جس سپارے میں
بروز حشر اگر بولنے کا موقع ملا
خدا سے بات کروں گا تمہارے بارے میں
پھول مہتاب ستاروں کی ضرورت کیا ہے
تم اگر ہو تو بہاروں کی ضرورت کیا ہے
چھوڑ کے جاتے ہوئے ہاتھ ہلانے والے
تیرے اندھوں کو اشاروں کی ضرورت کیا ہے
جن کی آنکھوں میں تِری آنکھیں رہا کرتی ہوں
ان کو پھر اور نظاروں کی ضرورت کیا ہے
یوں مسافت اڑان سے نکلے
تیر جیسے کمان سے نکلے
کوئی پوچھے کہ زندگی کیا ہے
نام تیرا زبان سے نکلے
اس نے تذلیل کرکے بھیجا ہے
ہم سمجھتے ہیں شان سے نکلے
لگا کے سرمہ سجا کے آنکھیں
حسیں ہتھیلی میں اک چنبیلی کا پھول لے کے
وہ یونیورسٹی کے لان میں جب بھی گھومتی ہے
تو ایسے لگتا ہے
جیسے پھولوں پہ ایک تتلی مچل رہی ہو
کہ جیسے جنگل میں مورنی اک ٹہل رہی ہو
خبر نہیں اس نے بات کی ہے یا مارے پتھر
کہ اس کی آنکھوں کے لگ رہے تھے اشارے پتھر
گزر نہیں ہے ہماری آنکھوں میں پانی کا بھی
مگر تمہاری کرامتوں سے گزارے پتھر
کوئی تمہارے ستم کی فریاد کررہا ہے
یہ کس کو وحشت میں یاد آئے تمہارے پتھر
ہزار لوگوں میں بس دو یا تین مشکل سے
خدا بناتا ہے تجھ سے حسین مشکل سے
یہ کیسے لوگ ہیں ہونٹوں کو چوم لیتے ہیں
کہ ہم نے چومی فقط اک جبین مشکل سے
فرشتو! آؤ، کرو مل کے میرا استقبال
بچا کے لایا ہوں دنیا سے دِین مشکل سے
کوئی جو تیری خبر آ کے مہ جبیں دیتا
اسے میں خلد کے باغوں سے کچھ زمیں دیتا
کبھی بھی چاہا نہیں کچھ تِرے سوا لینا
خدا وگرنہ تمہارے سے بہتریں دیتا
کہاں کہاں سے پرندے لپکتے اس کی طرف
صدا وہ اپنے کبوتر کو جب کہیں دیتا
بتلائے محبت کا کوئی حل اسے کہنا
کٹتا ہی نہیں ہجر میں اک پل اسے کہنا
رہ جاتے ہیں دنیا میں کئی کام ادھورے
ہر شخص کی قسمت میں نہیں کل اسے کہنا
ہم پہلی ملاقات سے اب تک نہیں نکلے
اٹکا تھا گھڑی میں تِرا آنچل اسے کہنا
کسی کی موت پہ یہ لوگ کب اداس رہے
تمہارے بعد مگر سب کے سب اداس رہے
عجب ہوا تھا بچھڑتے سمے ہمارے ساتھ
کہ آنکھ ہنستی رہی، اور لب اداس رہے
خیال رکھتا ہوں اپنا کہ ماں اداس نہ ہو
میں چاہتا ہی نہیں ہوں کہ رب اداس رہے
اداس رہ کے ہنسی اختیار کرتے ہیں
ہم ایسے لوگ خزاں کو بہار کرتے ہیں
میں نفرتوں سے نمٹنا تو خوب جانتا ہوں
مگر یہ لوگ محبت سے وار کرتے ہیں
ہماری عمر وہی تھی جو تیرے ساتھ کٹی
کہ تیرے بعد فقط دن شمار کرتے ہیں
غموں کی دھوپ کا جب بھی بیان لکھتا ہوں
تو زلفِ یار کو میں سائبان لکھتا ہوں
مکین تم ہو جو اس دل کے تو مبارک ہو
تمہارے نام یہ دل کا مکان لکھتا ہوں
جسے خیال کی رفعت بلند کرتی ہے
میں اس زمین کو بھی آسمان لکھتا ہوں