کسی کی موت پہ یہ لوگ کب اداس رہے
تمہارے بعد مگر سب کے سب اداس رہے
عجب ہوا تھا بچھڑتے سمے ہمارے ساتھ
کہ آنکھ ہنستی رہی، اور لب اداس رہے
خیال رکھتا ہوں اپنا کہ ماں اداس نہ ہو
میں چاہتا ہی نہیں ہوں کہ رب اداس رہے
بچھڑ کے ہم تو بہت خوش رہے مگر وہ لوگ
بچھڑنے کا جو بنے تھے سبب، اداس رہے
خوشی کے دن ہیں تو سب لوگ آ کے ملتے ہیں
کسی نے ہاتھ نہ تھاما تھا جب اداس رہے
عجیب رشتہ ہے اس شخص سے علی عابد
وہ جب اداس رہا، ہم بھی تب اداس رہے
علی عابد
No comments:
Post a Comment