Monday, 3 January 2022

کسی کی موت پہ یہ لوگ کب اداس رہے

 کسی کی موت پہ یہ لوگ کب اداس رہے

تمہارے بعد مگر سب کے سب اداس رہے

عجب ہوا تھا بچھڑتے سمے ہمارے ساتھ

کہ آنکھ ہنستی رہی، اور لب اداس رہے

خیال رکھتا ہوں اپنا کہ ماں اداس نہ ہو

میں چاہتا ہی نہیں ہوں کہ رب اداس رہے

بچھڑ کے ہم تو بہت خوش رہے مگر وہ لوگ

بچھڑنے کا جو بنے تھے سبب، اداس رہے

خوشی کے دن ہیں تو سب لوگ آ کے ملتے ہیں

کسی نے ہاتھ نہ تھاما تھا جب اداس رہے

عجیب رشتہ ہے اس شخص سے علی عابد

وہ جب اداس رہا، ہم بھی تب اداس رہے


علی عابد

No comments:

Post a Comment