Showing posts with label جاناں ملک. Show all posts
Showing posts with label جاناں ملک. Show all posts

Wednesday, 17 January 2024

تیری چوکھٹ پہ جب آنا ہو گا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیری چوکھٹ پہ جب آنا ہو گا

کتنا خُوش بخت وہ لمحہ ہو گا

میں درِ پاکؐ پہ رکھ دوں گی جبیں

اور محبت میں جو سجدہ ہو گا

اس کی آنکھوں کے ملائک شیدا

جس نے سرکارؐ کو دیکھا ہو گا

Monday, 3 April 2023

ہماری شناسائی اور بھولی بسری یادیں

 بھولی بسری یادیں

ہماری شناسائی برسوں کے دنوں پر محیط ہے

ایسی دلنشیں یادیں

جنہیں  اک ٹھنڈی آہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا

ایسی دلفگار 

جو سینے میں تپتے الاؤ کو اور بڑھا دیں

Friday, 14 January 2022

کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا

کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا

یہ رتجگوں میں گھری محو یاس آنکھوں کا

میں گھر گئی تھی کہیں وحشتوں کے جنگل میں

تھا اک ہجوم مِرے آس پاس آنکھوں کا

برہنگی تِرے اندر کہیں پنپتی ہے

لباس ڈھونڈ کوئی بے لباس آنکھوں کا

Monday, 13 September 2021

اگر کھولو کبھی باب صبا تم

 اگر کھولو کبھی بابِ صبا تم

ادھر اک سرد جھونکا بھیجنا تم

جمالِ شب، نگارِ صبحگاہی

ستارہ تم ہو آنگن کا دِیا تم

مِرے پہلو بہ پہلو، رو بہ رو ہو

مِری تصویر، میرا آئینہ تم

Friday, 30 July 2021

بہت کچھ ادھورا رہ جاتا ہے لکھا ہوا سوچا ہوا

 خام کار


بہت کچھ ادھورا رہ جاتا ہے

لکھا ہوا

سوچا ہوا

شکلیں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں سمجھ نہیں آتا

کس کو کون سا پیرہن چاہیۓ

کس کی کیا شکل ہو

Sunday, 4 July 2021

برہنہ جسموں کے ساتھ وہ کھیل کھیلا گیا

 رکھائن


برہنہ جسموں کے ساتھ وہ کھیل کھیلا گیا

لبادوں کے منہ پھٹ گئے

چیخوں اور سِسکیوں سے

جنگلوں کے درندے شرم سے چھپ گئے

اور کیمروں کی آنکھوں میں خوں بھر گیا

Tuesday, 29 June 2021

کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا

 کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا

یہ رتجگوں میں گھری محوِ یاس آنکھوں کا

میں گھِر گئی تھی کہیں وحشتوں کے جنگل میں

تھا اک ہجوم مِرے آس پاس آنکھوں کا

برہنگی تِرے اندر کہیں پنپتی ہے

لباس ڈھونڈ کوئی بے لباس آنکھوں کا

Friday, 25 June 2021

ندی یہ جیسے موج میں دریا سے جا ملے

 ندی یہ جیسے موج میں دریا سے جا ملے

تم سے کہیں ملوں میں اگر راستا ملے

ملتی ہے ایک سانس کی مہلت کبھی کبھی

شاید یہ رات بھی تِری صبحوں سے جا ملے

جو بھی ملا وہ اپنی انا کا اسیر تھا

انساں کو ڈھونڈنے میں گئی تو خدا ملے

Thursday, 24 June 2021

اور مہک تھی جو اس باغ کی گھاس میں تھی

 اور مہک تھی جو اس باغ کی گھاس میں تھی

اس کے پاؤں کی خوشبو بھی اس باس میں تھی

تجھ بارش نے تن پھولوں سے بھر ڈالا

خالی شاخ تھی اور اس رُت کی آس میں تھی

تُو نے آس دلائی مجھ کو جینے کی

میں تو سانسیں لیتی مٹی یاس میں تھی

Wednesday, 23 June 2021

کس کی کھوئی ہوئی ہنسی تھی میں

 کس کی کھوئی ہوئی ہنسی تھی میں

کس کے ہونٹوں پہ آ گئی تھی میں

میں کسی شخص کی اداسی تھی

سرد لہجے میں بولتی تھی میں

دن ڈھلے لوٹتے پرندوں کو

گھر کی کھڑکی سے دیکھتی تھی میں

Wednesday, 9 June 2021

مرا بننا سنورنا اپنی جا ہے

 مِرا بننا سنورنا اپنی جا ہے

تِرا دُکھ تو وگرنہ اپنی جا ہے

بہت برداشت ہے دیوار و در کی

کہاں اس گھر میں ورنہ اپنی جا ہے

میں مثلِ سنگِ کہسار گراں ہوں

مِرے اندر کا جھرنا اپنی جا ہے

Sunday, 16 May 2021

تیز ہوا اور شب بھر بارش

 تیز ہوا اور شب بھر بارش

اندر چُپ اور باہر بارش

ایسے پہلے کب برسی تھیں

آنکھیں اور برابر بارش

صحرا تو پیاسے کا پیاسا

اور بھرے دریا پر بارش