عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری چوکھٹ پہ جب آنا ہو گا
کتنا خُوش بخت وہ لمحہ ہو گا
میں درِ پاکؐ پہ رکھ دوں گی جبیں
اور محبت میں جو سجدہ ہو گا
اس کی آنکھوں کے ملائک شیدا
جس نے سرکارؐ کو دیکھا ہو گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری چوکھٹ پہ جب آنا ہو گا
کتنا خُوش بخت وہ لمحہ ہو گا
میں درِ پاکؐ پہ رکھ دوں گی جبیں
اور محبت میں جو سجدہ ہو گا
اس کی آنکھوں کے ملائک شیدا
جس نے سرکارؐ کو دیکھا ہو گا
بھولی بسری یادیں
ہماری شناسائی برسوں کے دنوں پر محیط ہے
ایسی دلنشیں یادیں
جنہیں اک ٹھنڈی آہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا
ایسی دلفگار
جو سینے میں تپتے الاؤ کو اور بڑھا دیں
کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا
یہ رتجگوں میں گھری محو یاس آنکھوں کا
میں گھر گئی تھی کہیں وحشتوں کے جنگل میں
تھا اک ہجوم مِرے آس پاس آنکھوں کا
برہنگی تِرے اندر کہیں پنپتی ہے
لباس ڈھونڈ کوئی بے لباس آنکھوں کا
اگر کھولو کبھی بابِ صبا تم
ادھر اک سرد جھونکا بھیجنا تم
جمالِ شب، نگارِ صبحگاہی
ستارہ تم ہو آنگن کا دِیا تم
مِرے پہلو بہ پہلو، رو بہ رو ہو
مِری تصویر، میرا آئینہ تم
خام کار
بہت کچھ ادھورا رہ جاتا ہے
لکھا ہوا
سوچا ہوا
شکلیں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں سمجھ نہیں آتا
کس کو کون سا پیرہن چاہیۓ
کس کی کیا شکل ہو
رکھائن
برہنہ جسموں کے ساتھ وہ کھیل کھیلا گیا
لبادوں کے منہ پھٹ گئے
چیخوں اور سِسکیوں سے
جنگلوں کے درندے شرم سے چھپ گئے
اور کیمروں کی آنکھوں میں خوں بھر گیا
کبھی تو سوچنا تم ان اداس آنکھوں کا
یہ رتجگوں میں گھری محوِ یاس آنکھوں کا
میں گھِر گئی تھی کہیں وحشتوں کے جنگل میں
تھا اک ہجوم مِرے آس پاس آنکھوں کا
برہنگی تِرے اندر کہیں پنپتی ہے
لباس ڈھونڈ کوئی بے لباس آنکھوں کا
ندی یہ جیسے موج میں دریا سے جا ملے
تم سے کہیں ملوں میں اگر راستا ملے
ملتی ہے ایک سانس کی مہلت کبھی کبھی
شاید یہ رات بھی تِری صبحوں سے جا ملے
جو بھی ملا وہ اپنی انا کا اسیر تھا
انساں کو ڈھونڈنے میں گئی تو خدا ملے
اور مہک تھی جو اس باغ کی گھاس میں تھی
اس کے پاؤں کی خوشبو بھی اس باس میں تھی
تجھ بارش نے تن پھولوں سے بھر ڈالا
خالی شاخ تھی اور اس رُت کی آس میں تھی
تُو نے آس دلائی مجھ کو جینے کی
میں تو سانسیں لیتی مٹی یاس میں تھی
کس کی کھوئی ہوئی ہنسی تھی میں
کس کے ہونٹوں پہ آ گئی تھی میں
میں کسی شخص کی اداسی تھی
سرد لہجے میں بولتی تھی میں
دن ڈھلے لوٹتے پرندوں کو
گھر کی کھڑکی سے دیکھتی تھی میں
مِرا بننا سنورنا اپنی جا ہے
تِرا دُکھ تو وگرنہ اپنی جا ہے
بہت برداشت ہے دیوار و در کی
کہاں اس گھر میں ورنہ اپنی جا ہے
میں مثلِ سنگِ کہسار گراں ہوں
مِرے اندر کا جھرنا اپنی جا ہے
تیز ہوا اور شب بھر بارش
اندر چُپ اور باہر بارش
ایسے پہلے کب برسی تھیں
آنکھیں اور برابر بارش
صحرا تو پیاسے کا پیاسا
اور بھرے دریا پر بارش