بھولی بسری یادیں
ہماری شناسائی برسوں کے دنوں پر محیط ہے
ایسی دلنشیں یادیں
جنہیں اک ٹھنڈی آہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا
ایسی دلفگار
جو سینے میں تپتے الاؤ کو اور بڑھا دیں
وقت کا پہیہ چاہے
کتنا بھی الٹا گھمانے کی بے سود کوشش کر لیں
ہم پھر بھی ایک ہی مدار میں کہاں مل سکتے ہیں
لیکن اس سب کے باوجود
ہماری شناسائی اور بھولی بسری یادیں
اک ہی قوس سے
دائرہ مکمل کریں گی
اور ہم یک نفس رہیں گے
جاناں ملک
No comments:
Post a Comment