Tuesday, 4 April 2023

کوئی رستہ ہے نہ منزل نہ تو گھر ہے کوئی

 کوئی رستہ ہے نہ منزل نہ تو گھر ہے کوئی

آپ کہیے گا سفر یہ بھی سفر ہے کوئی

پاس بک پر تو نظر ہے کہ کہاں رکھی ہے

پیار کے خط کا پتہ ہے نہ خبر ہے کوئی

ٹھوکریں دے کے تجھے اس نے تو سمجھایا بہت

ایک ٹھوکر کا بھی کیا تجھ پہ اثر ہے کوئی

رات دن اپنے اشاروں پہ نچاتا ہے مجھے

میں نے دیکھا تو نہیں مجھ میں مگر ہے کوئی

ایک بھی دل میں نہ اتری، نہ کوئی دوست بنا

یار! تُو یہ تو بتا؟ یہ بھی نظر ہے کوئی

پیار سے ہاتھ ملانے سے ہی پل بنتے ہیں

کاٹ دو، کاٹ دو گر دل میں بھنور ہے کوئی

موت دیوار ہے، دیوار کے اس پار سے اب

مجھ کو رہ رہ کے بلاتا ہے ادھر ہے کوئی

ساری دنیا میں لٹاتا ہی رہا پیار اپنا

کون ہے، سنتے ہیں، بے چین کنور ہے کوئی


کنور بے چین

No comments:

Post a Comment