کوئی رستہ ہے نہ منزل نہ تو گھر ہے کوئی
آپ کہیے گا سفر یہ بھی سفر ہے کوئی
پاس بک پر تو نظر ہے کہ کہاں رکھی ہے
پیار کے خط کا پتہ ہے نہ خبر ہے کوئی
ٹھوکریں دے کے تجھے اس نے تو سمجھایا بہت
ایک ٹھوکر کا بھی کیا تجھ پہ اثر ہے کوئی
رات دن اپنے اشاروں پہ نچاتا ہے مجھے
میں نے دیکھا تو نہیں مجھ میں مگر ہے کوئی
ایک بھی دل میں نہ اتری، نہ کوئی دوست بنا
یار! تُو یہ تو بتا؟ یہ بھی نظر ہے کوئی
پیار سے ہاتھ ملانے سے ہی پل بنتے ہیں
کاٹ دو، کاٹ دو گر دل میں بھنور ہے کوئی
موت دیوار ہے، دیوار کے اس پار سے اب
مجھ کو رہ رہ کے بلاتا ہے ادھر ہے کوئی
ساری دنیا میں لٹاتا ہی رہا پیار اپنا
کون ہے، سنتے ہیں، بے چین کنور ہے کوئی
کنور بے چین
No comments:
Post a Comment