رات ساری جلتے جلتے تھک گیا کب کا چراغ
ٹمٹما کر بجھ رہا ہے آخرِ شب کا چراغ
چاند کی صورت کسی کی آنکھ سے روشن رہا
یہ چراغِ زندگی ہے اک نئے ڈھب کا چراغ
آندھیاں ہوں، بارشیں ہوں یا کوئی طوفان ہو
گُل نہیں ہو پائے گا اب آپ کی چھب کا چراغ
روشنی اس کی بنے گی راہِ منزل کا نشاں
میرا زخمِ دل ہے گویا اک طرح سب کا چراغ
عہدِ کج خُلقی میں روشن رہ نہ پائے گا کبھی
کیا مہذب کا چراغ اور کیا مہذب کا چراغ
ہم کو ثاقب تیرگی میں روشنی مطلوب ہے
ان کو تو بس ہے جلانا اپنے مطلب کا چراغ
حسین ثاقب
No comments:
Post a Comment