Showing posts with label عزیز پریہار. Show all posts
Showing posts with label عزیز پریہار. Show all posts

Friday, 19 November 2021

خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مری جاں رکھنا

 خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مِری جاں رکھنا

ہر گھڑی خواب کو تم خواب پریشاں رکھنا

اب عبادت کی یہی ایک ہے صورت باقی

آنکھ کو بند کیے ہونٹ ثنا خواں رکھنا

خواب کو ذہن کہاں ہے نہ یہاں ہے نہ وہاں

دل کے آنگن میں کہیں گورِ غریباں رکھنا

Monday, 15 November 2021

کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں

 کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں

یاد یہ کس کی دلانے کو صدائیں آئیں

ذہن کی دھند نے عمروں کو سوالی رکھا

دھند کے پردے سے کتنی ہی شعاعیں آئیں

توڑ کر کون سی زنجیر یہ مجرم آئے

جرم تھا کون سا ان کا جو سزائیں آئیں

Sunday, 14 November 2021

ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا

 ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا

یہ سودا تو بہت مہنگا پڑے گا

بدلنا چاہتے ہو رخ ہوا کا؟

ہوا کے ساتھ بھی چلنا پڑے گا

ابھی سے کیا بتائیں دیکھ لینا

کسی دیوار کا جھگڑا پڑے گا

Saturday, 13 November 2021

تمہارے نام لکھتا ہوں

 تمہارے نام لکھتا ہوں


سنہری دھوپ کا منظر

گئے موسم کی شادابی

شفق کی ریشمی گرہیں

چاند کے پہلو میں لپٹی سبز شاخیں

کسی ٹوٹے ہوئے تارے کی دھندلی سی لکیریں

Wednesday, 13 October 2021

صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں

 صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں

شام جو ڈھلتی ہے بازار سے لگ جاتے ہیں

عشق میں اور بھلا اس کے سوا کیا ہو گا

در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں

جب گھڑی آتی ہے انصاف کی دھیرے دھیرے

جرم آ کر سبھی حقدار سے لگ جاتے ہیں