خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مِری جاں رکھنا
ہر گھڑی خواب کو تم خواب پریشاں رکھنا
اب عبادت کی یہی ایک ہے صورت باقی
آنکھ کو بند کیے ہونٹ ثنا خواں رکھنا
خواب کو ذہن کہاں ہے نہ یہاں ہے نہ وہاں
دل کے آنگن میں کہیں گورِ غریباں رکھنا
خود سے اب مجھ کو جدا یوں ہی مِری جاں رکھنا
ہر گھڑی خواب کو تم خواب پریشاں رکھنا
اب عبادت کی یہی ایک ہے صورت باقی
آنکھ کو بند کیے ہونٹ ثنا خواں رکھنا
خواب کو ذہن کہاں ہے نہ یہاں ہے نہ وہاں
دل کے آنگن میں کہیں گورِ غریباں رکھنا
کھڑکیاں کھول کے کیسی یہ صدائیں آئیں
یاد یہ کس کی دلانے کو صدائیں آئیں
ذہن کی دھند نے عمروں کو سوالی رکھا
دھند کے پردے سے کتنی ہی شعاعیں آئیں
توڑ کر کون سی زنجیر یہ مجرم آئے
جرم تھا کون سا ان کا جو سزائیں آئیں
ہمیں اب خواب میں جینا پڑے گا
یہ سودا تو بہت مہنگا پڑے گا
بدلنا چاہتے ہو رخ ہوا کا؟
ہوا کے ساتھ بھی چلنا پڑے گا
ابھی سے کیا بتائیں دیکھ لینا
کسی دیوار کا جھگڑا پڑے گا
تمہارے نام لکھتا ہوں
سنہری دھوپ کا منظر
گئے موسم کی شادابی
شفق کی ریشمی گرہیں
چاند کے پہلو میں لپٹی سبز شاخیں
کسی ٹوٹے ہوئے تارے کی دھندلی سی لکیریں
صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں
شام جو ڈھلتی ہے بازار سے لگ جاتے ہیں
عشق میں اور بھلا اس کے سوا کیا ہو گا
در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
جب گھڑی آتی ہے انصاف کی دھیرے دھیرے
جرم آ کر سبھی حقدار سے لگ جاتے ہیں