Saturday, 13 November 2021

تمہارے نام لکھتا ہوں

 تمہارے نام لکھتا ہوں


سنہری دھوپ کا منظر

گئے موسم کی شادابی

شفق کی ریشمی گرہیں

چاند کے پہلو میں لپٹی سبز شاخیں

کسی ٹوٹے ہوئے تارے کی دھندلی سی لکیریں

نقش جن کے ریت پر بہتے رہے برسوں

سفر کی دائمی خوشبو

میں جس کی آرزو لے کر تمہارے پاس آیا تھا

کتابِ دل کی وہ دھڑکن

تمہارے نام لکھتا ہوں

پروں پر تتلیوں کے تیرتی سرگم

جو لفظوں میں کبھی ڈھلنے نہ پائی

وہ مدھم ساز کی جنبش

اجالے صبح کے دستک ہواؤں کی

میں اپنی سوچ کی ٹیڑھی لکیریں

جو کبھی آئیں صدا بن کر

خلا بن کر جو لوٹی ہیں

کسی بے نام صحرا میں

تمہارے نام لکھتا ہوں

گزرتی ساعتوں کی تلخیاں رعنائیاں

آوارگی اپنی

طلسم آگہی کے خواب پیکر

پھول تتلی رنگ بارش قہقہے

خزانے لفظ و معنی کے

سلیقے گفتگو کے

نرم لہجے کی رواں لہریں

محبت کی پرانی داستاں

تم نے کہی میں نے سنی

میں نے کہی، تم نے سنی

تمہارے نام لکھتا ہوں

مجھے اب سرخرو کر دو

مِرے سب خواب چوری ہو گئے ہیں

خواب کی منزل نیا اک خواب ہے

مِرے دامن میں خوابیدہ

نہ جانے کتنے خاکے کتنے نقشے

آخری سانسوں پہ ہیں

تصویر ان خوابوں کی اب میں سونپ کر تجھ کو

نیا اک باب لکھتا ہوں

تمہارے نام لکھتا ہوں


عزیز پریہار

No comments:

Post a Comment