Showing posts with label اشوک ساہنی. Show all posts
Showing posts with label اشوک ساہنی. Show all posts

Monday, 19 February 2024

بس دکھا دے راہ میخانہ کوئی

 بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی

لے چلے یا سوئے ویرانہ کوئی

کیا ملا فرزانوں میں رہ کر مجھے

ان سے تو بہتر ہے دیوانہ کوئی

رہ‌ گزار شوق کا ہے یہ کرم

ہو گیا اپنا ہی بے گانہ کوئی

Saturday, 11 November 2023

نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے

 نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے 

پیار کی شمعیں جلاؤ تو کوئی بات بنے 

آج انسان خدا خود کو سمجھ بیٹھا ہے 

اس کو انسان بناؤ تو کوئی بات بنے 

تیرگی بڑھنے لگی اپنی حدوں سے آگے 

مشعلیں دن میں جلاؤ تو کوئی بات بنے 

Friday, 26 May 2023

نغمہ الفت کا گا دیا میں نے

 نغمہ الفت کا گا دیا میں نے

عشق کو جگمگا دیا میں نے

یارو اپنے ہی خون سے دیکھو

اس نگر کو سجا دیا میں نے

جو تھے بیگانے بن گئے اپنے

یہ بھی کر کے دکھا دیا میں نے

Saturday, 6 May 2023

شمع اخلاص و یقیں دل میں جلا کر چلیے

 شمع اخلاص و یقیں دل میں جلا کر چلیے

ظلمتِ یاس میں امید جگا کر چلیے

ہم سے دیوانے کہاں زادِ سفر رکھتے ہیں

ساتھ چلنا ہے تو اسباب لٹا کر چلیے

عشق کا راستہ آسان نہیں ہوتا ہے

بازیٔ عشق میں جان اپنی لٹا کر چلیے

Wednesday, 14 April 2021

پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا

 پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا

اس سے بچھڑ کے روگ گلے سے لگا لیا

کوئی تو ایسی بات تھی ہم کچھ نہ کر سکے

سارے جہاں میں خود کو تماشہ بنا لیا

اب یہ کسے بتائیں ہمیں کیا خوشی ملی

جس دن ذرا سا بوجھ کسی کا اٹھا لیا

Friday, 9 April 2021

نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں

 نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں

ایماں کی بات یہ ہے کہ ایمان ہی نہیں

اس دور بے ضمیر پہ کیا تبصرہ کروں

لگتا ہے میرے عہد میں انسان ہی نہیں

کیسے رفو کروں میں کہاں سے رفو کروں

دل بھی ہے میرا چاک گریبان ہی نہیں