بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی
لے چلے یا سوئے ویرانہ کوئی
کیا ملا فرزانوں میں رہ کر مجھے
ان سے تو بہتر ہے دیوانہ کوئی
رہ گزار شوق کا ہے یہ کرم
ہو گیا اپنا ہی بے گانہ کوئی
بس دکھا دے راہ مے خانہ کوئی
لے چلے یا سوئے ویرانہ کوئی
کیا ملا فرزانوں میں رہ کر مجھے
ان سے تو بہتر ہے دیوانہ کوئی
رہ گزار شوق کا ہے یہ کرم
ہو گیا اپنا ہی بے گانہ کوئی
نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے
پیار کی شمعیں جلاؤ تو کوئی بات بنے
آج انسان خدا خود کو سمجھ بیٹھا ہے
اس کو انسان بناؤ تو کوئی بات بنے
تیرگی بڑھنے لگی اپنی حدوں سے آگے
مشعلیں دن میں جلاؤ تو کوئی بات بنے
نغمہ الفت کا گا دیا میں نے
عشق کو جگمگا دیا میں نے
یارو اپنے ہی خون سے دیکھو
اس نگر کو سجا دیا میں نے
جو تھے بیگانے بن گئے اپنے
یہ بھی کر کے دکھا دیا میں نے
شمع اخلاص و یقیں دل میں جلا کر چلیے
ظلمتِ یاس میں امید جگا کر چلیے
ہم سے دیوانے کہاں زادِ سفر رکھتے ہیں
ساتھ چلنا ہے تو اسباب لٹا کر چلیے
عشق کا راستہ آسان نہیں ہوتا ہے
بازیٔ عشق میں جان اپنی لٹا کر چلیے
پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا
اس سے بچھڑ کے روگ گلے سے لگا لیا
کوئی تو ایسی بات تھی ہم کچھ نہ کر سکے
سارے جہاں میں خود کو تماشہ بنا لیا
اب یہ کسے بتائیں ہمیں کیا خوشی ملی
جس دن ذرا سا بوجھ کسی کا اٹھا لیا
نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں
ایماں کی بات یہ ہے کہ ایمان ہی نہیں
اس دور بے ضمیر پہ کیا تبصرہ کروں
لگتا ہے میرے عہد میں انسان ہی نہیں
کیسے رفو کروں میں کہاں سے رفو کروں
دل بھی ہے میرا چاک گریبان ہی نہیں