Wednesday, 14 April 2021

پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا

 پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا

اس سے بچھڑ کے روگ گلے سے لگا لیا

کوئی تو ایسی بات تھی ہم کچھ نہ کر سکے

سارے جہاں میں خود کو تماشہ بنا لیا

اب یہ کسے بتائیں ہمیں کیا خوشی ملی

جس دن ذرا سا بوجھ کسی کا اٹھا لیا

میں عمر بھر نہ جانے بھٹکتا کہاں کہاں

اچھا ہوا جو آپ نے اپنا بنا لیا

کتنے سکوں سے کاٹ دی پُرکھوں نے زندگی

جو مل گیا نصیب سے چپ چاپ کھا لیا

احباب کو نہ دیجئے الزام دوستو

ہم نے تو دشمنوں کو بھی اپنا بنا لیا

گزرے ہیں زندگی میں بہت تجربات سے

لیکن اشوک جینے کا انداز پا لیا


اشوک ساہنی ساحل

No comments:

Post a Comment