Wednesday, 14 April 2021

چہرہ کوئی ہوتا ہے پر اور کسی چہرے کا گماں گزرتا ہے

 کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے


چہرہ کوئی ہوتا ہے

پر اور کسی چہرے کا گماں گزرتا ہے

پھر چند لمحوں کی خاطر

ہم اردگرد سے کٹ جاتے ہیں

یادوں کے خوش رنگ جہانوں میں

بٹ جاتے ہیں

نہ موسم ہوش کا ہوتا ہے

نہ لہر جنوں کی ہوتی ہے

کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے


جبار جمیل

No comments:

Post a Comment