Wednesday, 14 April 2021

اپنی جبیں میں کیا کیا سجدے پڑے ہوئے ہیں

 اپنی جبیں میں کیا کیا، سجدے پڑے ہوئے ہیں

پھر بھی قیام میں ہم، کب سے کھڑے ہوئے ہیں

ان کے لہو کے قطرے بکھرے ہیں دونوں جانب

سرحد کی باڑ میں جو، پنچھی اَڑے ہوئے ہیں

اب کے برس یہ کیسا، موسم نے رنگ بدلا

پہلے شبیں کٹھن تھیں، اب دن کڑے ہوئے ہیں

انجان ڈر سے ڈر کر، دیوار و در سے لگ کر

تم بھی کھڑے ہوئے ہو، ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں

ہر اک زوال میں ہے، ایسے عروج پنہاں

سورج جو ڈھل گیا تو، سائے بڑے ہوئے ہیں

آنکھیں حسین اتنی، بس دیکھتے ہی جائیں

جیسے انگوٹھیوں میں موتی جڑے ہوئے ہیں

اتنی بڑی نہیں ہے، عمران بات جس پر

تم بھی اڑے ہوئے ہو، ہم بھی اڑے ہوئے ہیں


عمران مفتی

No comments:

Post a Comment