Showing posts with label یعقوب تصور. Show all posts
Showing posts with label یعقوب تصور. Show all posts

Monday, 18 October 2021

گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے

 گردشِ مقدر کا سلسلہ جو چل جائے

دوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائے

حجرۂ گریباں میں ہر جواب روشن ہے

بس ذرا نگاہوں کا زاویہ بدل جائے

آنسوؤں کے بہنے کا یہ اثر تو ہوتا ہے

غم ذرا سا ڈھل جائے دل بھی کچھ سنبھل جائے

Saturday, 15 May 2021

مرے چاروں طرف ایک آہنی دیوار کیوں ہے

 مِرے چاروں طرف ایک آہنی دیوار کیوں ہے

اگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہے

نشاط و انبساط و شادمانی زیست ٹھہری

تو بتلائے کوئی جینا مجھے آزار کیوں ہے

مسافت زندگی ہے اور دنیا اک سرائے

تو اس تمثیل میں طوفان کا کردار کیوں ہے

Friday, 14 May 2021

روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر

 رُوبرُو بُت کے دُعا کی بھُول ہو جائے تو پھر

اور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھر

میں بڑھاؤں ہاتھ جس کانٹے کی جانب شوق سے

ہاتھ میں آ کر وہ کانٹا پھُول ہو جائے تو پھر

بادبانوں پر ہوا ہو مہرباں، اور دفعتاً

ٹکڑے ٹکڑے ناؤ کا مستول ہو جائے تو پھر

Wednesday, 12 May 2021

درون حلقۂ زنجیر ہوں میں

 درونِ حلقۂ زنجیر ہوں میں

شکستہ خواب کی تعبیر ہوں میں

مجھے حیرت سے یوں وہ تک رہا ہے

کہ جیسے میں نہیں تصویر ہوں میں

مِری باتیں تو زہریلی بہت ہیں

مگر تریاق کی تاثیر ہوں میں

Tuesday, 11 May 2021

مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں

 مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں

کہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیں

سوال یہ ہے کہ پھر آگ لگ گئی کیسے

کوئی دِیا تو اندھیرے مکاں میں تھا ہی نہیں

اُٹھا لیے گئے ہتھیار پھر تحفظ کو

کہ شہر امن میں کوئی اماں میں تھا ہی نہیں

حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری

 حصولِ رزق کے ارماں نکالتے گزری

حیات ایک سے سِکے ہی ڈالتے گزری

مسافرت کی صعوبت میں عمر بِیت گئی

بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری

ہوا نے جشن منائے وہ انتظار کی رات

چراغِ حجرۂ فُرقت سنبھالتے گزری