کس نے دیا ہے سکھ میں سات
شفقت والی تیری ذات
باپ کا خون بیٹوں کے ہات
کتنے قاتل ہیں حالات
مدھم ہے تہذیب کی شمع
بجھنے کے ہیں امکانات
کس نے دیا ہے سکھ میں سات
شفقت والی تیری ذات
باپ کا خون بیٹوں کے ہات
کتنے قاتل ہیں حالات
مدھم ہے تہذیب کی شمع
بجھنے کے ہیں امکانات
پرانی الجھنیں سلجھا رہا ہوں
مگر اپنے لیے ایک مسئلہ ہوں
میں اپنے شہر کی گلیوں میں اکثر
خود اپنے آپ کو ہی ڈھونڈتا ہوں
مجھے چھیڑو نہ تم سنگِ ستم سے
میں طوفاں ہوں مگر ٹھہرا ہوا ہوں
دریا ساحل طوفاں دیکھے وقت کے آنے جانے میں
ہم نے ساری عمر گنوا دی کشتی پار لگانے میں
بیگانے تو بے گانے تھے بیگانوں کا شکوہ کیا
اپنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے گھر کو آگ لگانے میں
پل دو پل میں ڈھ جاتے ہیں تاج محل ارمانوں کے
لیکن برسوں لگ جاتے ہیں بگڑی بات بنانے میں
ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے
پلکوں پلکوں اشک سجائے باتیں کیں دیواروں سے
جیون نیّا جوجھ رہی ہے ظلم کے بہتے دھاروں سے
ہم نے کیا کیا درد سمیٹے روزانہ اخباروں سے
آنگن آنگن پھول کھلیں گے پیار کی خوشبو مہکے گی
امن کا پرچم ہاتھوں میں لیں کام نہ لیں تلواروں سے