Showing posts with label ارمان اکبرآبادی. Show all posts
Showing posts with label ارمان اکبرآبادی. Show all posts

Tuesday, 26 August 2025

کس نے دیا ہے سکھ میں سات

 کس نے دیا ہے سکھ میں سات

شفقت والی تیری ذات

باپ کا خون بیٹوں کے ہات

کتنے قاتل ہیں حالات

مدھم ہے تہذیب کی شمع

بجھنے کے ہیں امکانات

Monday, 11 August 2025

پرانی الجھنیں سلجھا رہا ہوں

 پرانی الجھنیں سلجھا رہا ہوں

مگر اپنے لیے ایک مسئلہ ہوں

میں اپنے شہر کی گلیوں میں اکثر

خود اپنے آپ کو ہی ڈھونڈتا ہوں

مجھے چھیڑو نہ تم سنگِ ستم سے

میں طوفاں ہوں مگر ٹھہرا ہوا ہوں

Sunday, 15 June 2025

دریا ساحل طوفاں دیکھے وقت کے آنے جانے میں

 دریا ساحل طوفاں دیکھے وقت کے آنے جانے میں 

ہم نے ساری عمر گنوا دی کشتی پار لگانے میں 

بیگانے تو بے گانے تھے بیگانوں کا شکوہ کیا 

اپنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے گھر کو آگ لگانے میں 

پل دو پل میں ڈھ جاتے ہیں تاج محل ارمانوں کے 

لیکن برسوں لگ جاتے ہیں بگڑی بات بنانے میں 

Sunday, 11 September 2022

ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے

ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے 

پلکوں پلکوں اشک سجائے باتیں کیں دیواروں سے 

جیون نیّا جوجھ رہی ہے ظلم کے بہتے دھاروں سے 

ہم نے کیا کیا درد سمیٹے روزانہ اخباروں سے 

آنگن آنگن پھول کھلیں گے پیار کی خوشبو مہکے گی 

امن کا پرچم ہاتھوں میں لیں کام نہ لیں تلواروں سے