ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے
پلکوں پلکوں اشک سجائے باتیں کیں دیواروں سے
جیون نیّا جوجھ رہی ہے ظلم کے بہتے دھاروں سے
ہم نے کیا کیا درد سمیٹے روزانہ اخباروں سے
آنگن آنگن پھول کھلیں گے پیار کی خوشبو مہکے گی
امن کا پرچم ہاتھوں میں لیں کام نہ لیں تلواروں سے
نظم زمانہ درہم و برہم اب تو ایسا لگتا ہے
راہزنوں کا خوف ہے کم کم ڈر ہے پہریداروں سے
جہد و عمل کا دامن تھامیں عزم کا پرچم لہرائیں
کشتی پار نہیں لگتی ہے باتوں کی پتواروں سے
یارو جسم کی خوش پوشی سے تزئین و توقیر نہیں
دل کو بھی تو روشن کیجے پاکیزہ افکاروں سے
میرے وطن کی مٹی میں بھی یارو! کتنی خوبی ہے
سوندھی سوندھی خوشبو مہکے بارش کی بوچھاروں سے
ارمان اکبرآبادی
سعید احمد
No comments:
Post a Comment