اب کوئی یوں سرِ بازار نہ رُسوا ہو گا
ہم نہ ہوں گے تو محبت کا نہ چرچا ہو گا
ریت ہی ریت تھی پھیلی ہوئی تا حدِ نظر
تشنگی کہتی تھی؛ آگے کوئی دریا ہو گا
چھوڑ دیں چارہ گری چارہ گروں سے کہہ دو
زخم کُہنہ ہے مِرا، اُن سے نہ اچھا ہو گا
یوں بِچھڑ جائیں گے سب راہِ محبت والے
ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا ہو گا
اب کسی قیس کو ہو گی نہ تلاشِ محمل
کوہکن سا کوئی شِیریں کا نہ شیدا ہو گا
زاہد ندیم احسن
No comments:
Post a Comment