Showing posts with label مسعودہ امام. Show all posts
Showing posts with label مسعودہ امام. Show all posts

Saturday, 28 June 2025

آسمان پر اک ذرا پتھر تو اٹھا کر دیکھو یارو

 پرواز


تم نے کہا؛

آسمان پر اک ذرا پتھر تو اٹھا کر دیکھو یارو

یہ حوصلہ اور ہمت کی نصیحت

اٹھا کر دیکھا تھا ہم نے بھی یارو

بتاؤں تمہیں کیا ہوا

یہ پتھر تو مجھ پر ہی آ گرا

Tuesday, 20 May 2025

ریت کے تودے پر شیشے کا مکان

 شیشے کا مکان


مٹھی بھر خاک سے زیست کا سامان

ریت کے تودے پر شیشے کا مکان

جو بن جائے تو مکینوں کے دھڑکتے دل

خوف سے لرزا و ہراساں رہیں ہر پل

کہ پورب سے آئی آندھی

یا پچھم سے پتھر کی ضرب

Sunday, 18 May 2025

پنجرے میت پر نہ روو

 پنجرے


میت پر نہ روؤ

کہ یہ آزاد ہوئیں

رونا ہے تو ان

ان یادوں پر روؤ

کہ یہ سانسوں کے

پنجرے سے

Sunday, 27 March 2022

پڑھ کے جغرافیہ سمجھ لیں گے

آدھی غزل (غالب سے معذرت کے ساتھ)


پڑھ کے جغرافیہ سمجھ لیں گے

"ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے"

ووٹ لینے کو آئیں گے جھک کر

"جو نہیں جانتے وفا کیا ہے"

سر سے پا تک سپردگی کی ادا

"یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے"

Friday, 18 March 2022

انجان سفر اندھیری رات کے مسافر

انجان سفر


اندھیری رات کے مسافر

ذرا دم تو لو

زمین سنگلاخ

سفر تنہا

صدا بہ صحرا

تیری پیش قدمی کو بے تاب