پرواز
تم نے کہا؛
آسمان پر اک ذرا پتھر تو اٹھا کر دیکھو یارو
یہ حوصلہ اور ہمت کی نصیحت
اٹھا کر دیکھا تھا ہم نے بھی یارو
بتاؤں تمہیں کیا ہوا
یہ پتھر تو مجھ پر ہی آ گرا
پرواز
تم نے کہا؛
آسمان پر اک ذرا پتھر تو اٹھا کر دیکھو یارو
یہ حوصلہ اور ہمت کی نصیحت
اٹھا کر دیکھا تھا ہم نے بھی یارو
بتاؤں تمہیں کیا ہوا
یہ پتھر تو مجھ پر ہی آ گرا
شیشے کا مکان
مٹھی بھر خاک سے زیست کا سامان
ریت کے تودے پر شیشے کا مکان
جو بن جائے تو مکینوں کے دھڑکتے دل
خوف سے لرزا و ہراساں رہیں ہر پل
کہ پورب سے آئی آندھی
یا پچھم سے پتھر کی ضرب
پنجرے
میت پر نہ روؤ
کہ یہ آزاد ہوئیں
رونا ہے تو ان
ان یادوں پر روؤ
کہ یہ سانسوں کے
پنجرے سے
آدھی غزل (غالب سے معذرت کے ساتھ)
پڑھ کے جغرافیہ سمجھ لیں گے
"ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے"
ووٹ لینے کو آئیں گے جھک کر
"جو نہیں جانتے وفا کیا ہے"
سر سے پا تک سپردگی کی ادا
"یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے"
انجان سفر
اندھیری رات کے مسافر
ذرا دم تو لو
زمین سنگلاخ
سفر تنہا
صدا بہ صحرا
تیری پیش قدمی کو بے تاب