Showing posts with label لطیف آفاقی. Show all posts
Showing posts with label لطیف آفاقی. Show all posts

Saturday, 11 November 2023

زندگی تم سے مل کر امر ہو گئی

 مستند ہو گئی،۔ معتبر ہو گئی

زندگی تم سے مِل کر امر ہو گئی

کِشتِ دل میں جو ٹھنی تمناؤں کی

گاڑھ رکھی تھی بڑھ کر شجر ہو گئی​

اس قدر دائرے خواہشوں کے بڑھے

زندگی دائروں کا سفر ہو گئی

Thursday, 18 May 2023

مرے مولا مجھے سچ تک رسائی دے

 مِرے مولا مجھے سچ تک رسائی دے


 مِرے مولا مجھے سچ تک رسائی دے

سماعت جس سے لرزاں ہے

مجھے وہ سچ سنائی دے

بصارت جس سے خائف ہے

مجھے وہ سچ دکھائی دے

Monday, 8 May 2023

جہاں جہاں تجھے سوچا وہاں تلاش کیا

 جہاں جہاں تجھے سوچا وہاں تلاش کیا

زمیں کے ہم تھے مگر آسماں تلاش کیا

تجھے تلاش کیا خود سے کر کے صرف نظر

یقیں کو چھوڑ کہ ہم نے گماں تلاش کیا

یہ دھوپ چھاوں کا قصہ تو ایک سا ہے مجھے

فقط تمہارے لیے سائباں تلاش کیا

Tuesday, 7 March 2023

کہیں شعور کہیں خواب و خیال سمجھا گیا

 کہیں شعور کہیں خواب و خیال سمجھا گیا

ہمارا حال کہاں حسبِ حال سمجھا گیا

اسے تو معرکہ آرائی سے فرار سمجھ

کہ مشکلوں کو یہاں پر محال سمجھا گیا

خِرد کی آنکھ نے کھایا ہے بارہا دھوکہ

زوال آشنا کو لازوال سمجھا گیا

Saturday, 25 February 2023

ایسی ہستی سے آشنا ہوں میں

ایسی ہستی سے آشنا ہوں میں 

اک محبت کا سلسلہ ہوں میں 

ایک عالم ہے مجھ میں حیرت کا 

چشمِ بینا سے دیکھتا ہوں میں 

اک نمی سی میرے وجود میں ہے 

شاید اس آنکھ میں رہا ہوں میں