مستند ہو گئی،۔ معتبر ہو گئی
زندگی تم سے مِل کر امر ہو گئی
کِشتِ دل میں جو ٹھنی تمناؤں کی
گاڑھ رکھی تھی بڑھ کر شجر ہو گئی
اس قدر دائرے خواہشوں کے بڑھے
زندگی دائروں کا سفر ہو گئی
مستند ہو گئی،۔ معتبر ہو گئی
زندگی تم سے مِل کر امر ہو گئی
کِشتِ دل میں جو ٹھنی تمناؤں کی
گاڑھ رکھی تھی بڑھ کر شجر ہو گئی
اس قدر دائرے خواہشوں کے بڑھے
زندگی دائروں کا سفر ہو گئی
مِرے مولا مجھے سچ تک رسائی دے
مِرے مولا مجھے سچ تک رسائی دے
سماعت جس سے لرزاں ہے
مجھے وہ سچ سنائی دے
بصارت جس سے خائف ہے
مجھے وہ سچ دکھائی دے
جہاں جہاں تجھے سوچا وہاں تلاش کیا
زمیں کے ہم تھے مگر آسماں تلاش کیا
تجھے تلاش کیا خود سے کر کے صرف نظر
یقیں کو چھوڑ کہ ہم نے گماں تلاش کیا
یہ دھوپ چھاوں کا قصہ تو ایک سا ہے مجھے
فقط تمہارے لیے سائباں تلاش کیا
کہیں شعور کہیں خواب و خیال سمجھا گیا
ہمارا حال کہاں حسبِ حال سمجھا گیا
اسے تو معرکہ آرائی سے فرار سمجھ
کہ مشکلوں کو یہاں پر محال سمجھا گیا
خِرد کی آنکھ نے کھایا ہے بارہا دھوکہ
زوال آشنا کو لازوال سمجھا گیا
ایسی ہستی سے آشنا ہوں میں
اک محبت کا سلسلہ ہوں میں
ایک عالم ہے مجھ میں حیرت کا
چشمِ بینا سے دیکھتا ہوں میں
اک نمی سی میرے وجود میں ہے
شاید اس آنکھ میں رہا ہوں میں