جہاں جہاں تجھے سوچا وہاں تلاش کیا
زمیں کے ہم تھے مگر آسماں تلاش کیا
تجھے تلاش کیا خود سے کر کے صرف نظر
یقیں کو چھوڑ کہ ہم نے گماں تلاش کیا
یہ دھوپ چھاوں کا قصہ تو ایک سا ہے مجھے
فقط تمہارے لیے سائباں تلاش کیا
تو کیا تجھے بھی نہ ہونا تھا منکشف ہم پر
تو کیا یہ ہم نے تجھے رائیگاں تلاش کیا
لطیف پھر میں اکیلا ہی چل دیا گھر سے
سفر سے قبل بہت کارواں تلاش کیا
لطیف آفاقی
No comments:
Post a Comment