لہو انسان کا سستا لگے ہے
جسے دیکھو وہی پیاسا لگے ہے
اسے دیکھوں تو رسماً مسکرا دوں
یہ سودا بھی مجھے مہنگا لگے ہے
تعلق کُش، وفا دُشمن، ستم گر
مجھے یہ دور بھی تم سا لگے ہے
وراثت میں مجھے آنسو ملے ہیں
مجھے رونا بہت اچھا لگے ہے
مِرا اس سے کوئی ناتا نہ رشتہ
مگر وہ آدمی اپنا لگے ہے
انا کی سیڑھیوں پر چڑھ گیا ہوں
مجھے ہر آدمی بونا لگے ہے
شہود آیا ہے کیا دورِ بہاراں
جدا ہر شاخ سے پتا لگے ہے
شہود عالم آفاقی
No comments:
Post a Comment