بھول جا مت رہ کسی کی یاد میں کھویا ہوا
اس اندھیرے غار میں کچھ بھی نہیں رکھا ہوا
روشنی مل جائے تو مطلب عبارت کا سمجھ
ہے کتاب خاک میں کالک سے کچھ لکھا ہوا
چھو کے جب دیکھا مجھے بے حد پشیمانی ہوئی
وہم کا پیکر تھا میرے سامنے بیٹھا ہوا
بھول جا مت رہ کسی کی یاد میں کھویا ہوا
اس اندھیرے غار میں کچھ بھی نہیں رکھا ہوا
روشنی مل جائے تو مطلب عبارت کا سمجھ
ہے کتاب خاک میں کالک سے کچھ لکھا ہوا
چھو کے جب دیکھا مجھے بے حد پشیمانی ہوئی
وہم کا پیکر تھا میرے سامنے بیٹھا ہوا
قبائے گرد ہوں آتا ہے یہ خیال مجھے
چلے ہوا تو کہوں کس سے میں سنبھال مجھے
سکوتِ مرگ کے گنبد میں اک صدا بن کے
کبھی حصارِ غمِ زیست سے نکال مجھے
کوئی بھی راہ کا پتھر نظر نہیں آتا
میں دیکھتا ہوں اسے حیرت سوال مجھے
کوئی دُود سے بن جاتا ہے وجود
آدھی رات کو فون بجا
اور ابھری اک انجانی مغلوب صدا
اپنی چیخ کی دہشت سے
ابھی ابھی وہ جاگی ہے معلوم ہوا
بیضوی چہرہ
بے صورت