Showing posts with label حامد جیلانی. Show all posts
Showing posts with label حامد جیلانی. Show all posts

Wednesday, 17 June 2026

اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

 اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

ہم آئینے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے

عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ

پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے

کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو

صحرا میں زرد‌‌ رنگ سمندر بھی دیکھتے

Saturday, 1 November 2025

بھول جا مت رہ کسی کی یاد میں کھویا ہوا

 بھول جا مت رہ کسی کی یاد میں کھویا ہوا

اس اندھیرے غار میں کچھ بھی نہیں رکھا ہوا

روشنی مل جائے تو مطلب عبارت کا سمجھ

ہے کتاب خاک میں کالک سے کچھ لکھا ہوا

چھو کے جب دیکھا مجھے بے حد پشیمانی ہوئی

وہم کا پیکر تھا میرے سامنے بیٹھا ہوا

Sunday, 28 February 2021

قبائے گرد ہوں آتا ہے یہ خیال مجھے

قبائے گرد ہوں آتا ہے یہ خیال مجھے

چلے ہوا تو کہوں کس سے میں سنبھال مجھے

سکوتِ مرگ کے گنبد میں اک صدا بن کے

کبھی حصار‌‌ِ غمِ زیست سے نکال مجھے

کوئی بھی راہ کا پتھر نظر نہیں آتا

میں دیکھتا ہوں اسے حیرت سوال مجھے

Monday, 16 November 2020

آدھی رات کو فون بجا اور ابھری اک انجانی مغلوب صدا

کوئی دُود سے بن جاتا ہے وجود


آدھی رات کو فون بجا

اور ابھری اک انجانی مغلوب صدا

اپنی چیخ کی دہشت سے

ابھی ابھی وہ جاگی ہے معلوم ہوا

بیضوی چہرہ

بے صورت