Tuesday, 9 June 2026

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

 ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں

اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں

جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید

ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں

پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

اس کے حسیں گلابی لبوں کے جو وعدے تھے

میں کر رہا ہوں پورے یوں نبھا رہا ہوں میں

ہر شخص شہر چھوڑ کے جانے چلا کہاں

ہجرت کی بھیڑ بھاڑ ہے بس جا رہا ہوں میں

ان کے بغیر لطف نہیں زندگی میں اب

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

کہنا اے چاند ان سے نہ سوئیں وہ بے خبر

ڈھلتی ہے شب تو پاس ان کے آ رہا ہوں میں

خاور شب وصال میں سینے پہ سر رکھے

سوئے ہیں ان کے بالوں کو سلجھا رہا ہوں میں


خاور چشتی

No comments:

Post a Comment