ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں
اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں
جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید
ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں
پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں
زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں
اس کے حسیں گلابی لبوں کے جو وعدے تھے
میں کر رہا ہوں پورے یوں نبھا رہا ہوں میں
ہر شخص شہر چھوڑ کے جانے چلا کہاں
ہجرت کی بھیڑ بھاڑ ہے بس جا رہا ہوں میں
ان کے بغیر لطف نہیں زندگی میں اب
بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
کہنا اے چاند ان سے نہ سوئیں وہ بے خبر
ڈھلتی ہے شب تو پاس ان کے آ رہا ہوں میں
خاور شب وصال میں سینے پہ سر رکھے
سوئے ہیں ان کے بالوں کو سلجھا رہا ہوں میں
خاور چشتی
No comments:
Post a Comment