Saturday, 20 June 2026

گھپ اندھیرا تھا فقط وعدۂ تنویر کے ساتھ

 کب میں اترا تھا زمیں پر کسی توقیر کے ساتھ 

گھپ اندھیرا تھا فقط وعدۂ تنویر کے ساتھ 

اس کی یکتائی کو تسلیم نہ کرتا تو بھلا کیا کرتا 

کھینچ لیں اس نے طنابیں میری تصویر کے ساتھ 

نیند کی آنکھ سے چشمک تھی سو ہم برسوں تک

خواب بنتے ہی رہے خواہش تعبیر کے ساتھ 

ہم تو دہقان ہیں دھرتی کا جگر چیرتے ہیں 

کب ہماری رہی نسبت کسی شمشیر کے ساتھ 

ابن آدم ہوں تو یہ ساری زمیں میری ہے 

کیسے پیدا ہوا پھر کوئی بھی جاگیر کے ساتھ 

میں تو جھانسے میں نکل آیا تھا جنت کو امام 

کیوں جہاں چھوڑ کے جاؤں کسی تقصیر کے ساتھ


خواجہ جمشید امام

No comments:

Post a Comment