کب میں اترا تھا زمیں پر کسی توقیر کے ساتھ
گھپ اندھیرا تھا فقط وعدۂ تنویر کے ساتھ
اس کی یکتائی کو تسلیم نہ کرتا تو بھلا کیا کرتا
کھینچ لیں اس نے طنابیں میری تصویر کے ساتھ
نیند کی آنکھ سے چشمک تھی سو ہم برسوں تک
خواب بنتے ہی رہے خواہش تعبیر کے ساتھ
ہم تو دہقان ہیں دھرتی کا جگر چیرتے ہیں
کب ہماری رہی نسبت کسی شمشیر کے ساتھ
ابن آدم ہوں تو یہ ساری زمیں میری ہے
کیسے پیدا ہوا پھر کوئی بھی جاگیر کے ساتھ
میں تو جھانسے میں نکل آیا تھا جنت کو امام
کیوں جہاں چھوڑ کے جاؤں کسی تقصیر کے ساتھ
خواجہ جمشید امام
No comments:
Post a Comment