Tuesday, 16 June 2026

آبرو کھوئی آرزو کر کے

 دل کو پابند رنگ و بُو کر کے

آبرُو کھوئی آرزُو کر کے

خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے

کیا ملا ان کی جستجُو کر کے

خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم

آبرُو پائی آبرُو کر کے

دل کا ویرانہ کر لیا آباد

وقفِ ارمان و آرزُو کر کے

رشکِ صد سینا کر لیا سینہ

دل نشیں ایک شمع رُو کر کے

تم نہ کر بیٹھنا کہیں تقلید

وہ بلائیں تمہیں جو تُو کر کے

حیرتِ آئینہ ہوئے حیرت

آئینہ رُو کو رُوبرُو کر کے


حیرت شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment