وصیت
کوئی کچھ بھی کہے
مگر میں نے لکھ دیا ہے
کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں
اس نابینا فقیر کو لگائی جائیں
جو تمہارے شہر کی ہر گلی میں
وصیت
کوئی کچھ بھی کہے
مگر میں نے لکھ دیا ہے
کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں
اس نابینا فقیر کو لگائی جائیں
جو تمہارے شہر کی ہر گلی میں
سن کے سینے میں تِرا سانس اٹک سکتا ہے
وہ ہے اک مرد محبت سے بھی تھک سکتا ہے
غصہ کرنے کی اجازت ہے فقط بابا کو
تُو مجھے صرف محبت سے ہی تک سکتا ہے
تجھ سے بچھڑی تو یہ دنیا کہاں مرنے دے گی
تیرا کیا ہے تُو تو پنکھے سے لٹک سکتا ہے
تمہارے جیسے محبت پہ بات کرتے ہیں
لو کیسے کیسے محبت پہ بات کرتے ہیں
یہ جن کو بات بھی کرنے کا ڈھب نہیں آتا
یہ ایسے ویسے محبت پہ بات کرتے ہیں
کہیں جو ذکر کوئی چھیڑ دے محبت کا
تو جیسے تیسے محبت پہ بات کرتے ہیں
تمہارے دل پہ کسی اختیار کا سوچیں
نہیں مجال کہ ہم تم سے پیار کا سوچیں
ہم ایسی لڑکیوں کا مسئلہ تو عزت ہے
ہمارا حق نہیں بنتا؛ کہ پیار کا سوچیں
کہ پھول پھول سبھی موسموں کو کر ڈالیں
ہمارے بس میں ہے؛ آؤ بہار کا سوچیں
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم دیہاتی لوگ ہیں
کھیت میں لگے اس گنے کی طرح
جسے تم اپنے سخت ہاتھوں سے توڑ کر
اپنے دانتوں سے چھیل بھی دو
مگر وہ تب بھی تمہارا منہ مٹھاس سے بھر دے گا
جاتے ہوئے نشانی میں صدمات چھوڑ کر
جاتا ہے کوئی یوں بھی بھلا ساتھ چھوڑ کر
تُو نے تو اسی ہاتھ کو تھاما تھا شوق سے
تو اب کہاں چلا ہے مِرا ہاتھ چھوڑ کر
ڈر ہے کہ میں بھی ورثے میں یہ چھوڑ جاؤں گی
ماں بھی مَری تھی ایسے ہی حالات چھوڑ کر
ظلم چکھا یا بے حسی چکھی
کیا کبھی تم نے بے بسی چکھی
موت ملتی رہی پیالہ بھر
ایک ہی گھونٹ زندگی چکھی
چاند جب شاخ پہ اتر آیا
تب درختوں نے چاندنی چکھی
نیند ذرا سی جب بھی آنے لگتی ہے
یاد تمہاری شور مچانے لگتی ہے
ساتھ ملاتے ہیں آواز پرندے بھی
ہوا مجھے جب گیت سنانے لگتی ہے
دیکھ کے کھڑکی سے بارش کو پاگل لڑکی
آج بھی دو کپ چائے بنانے لگتی ہے
کہ اب کتابوں میں شاعری کے نئے معانی پڑھا کریں گے
مجھے خوشی ہے ہمارے بچے عمیر نجمی پڑھا کریں گے
ابھی محبت کو پڑھنے والے اسے محبت ہی پڑھ رہے ہیں
کئی زمانوں کے بعد اس کو بھی لوگ غلطی پڑھا کریں گے
یہ لکھنے والوں کا المیہ ہے کہ لوگ سارے ہی پڑھنے والے
لباس مہنگا خرید لیں گے، 🕮 کتاب سستی پڑھا کریں گے
میں مانتی نہیں ایسی کسی غلامی کو
جہیز لانا پڑے رشتے کی سلامی کو
وہ بھی اوروں کی طرح احترام کرتا ہے
خدایا! آگ لگے ایسی نیک نامی کو
پتہ چلے گا تجھے عشق کیا بلا ہے میاں
تُو پڑھ کے دیکھ کبھی رومی اور جامی کو
ہمارے دل میں تو ساری دنیا کا یارا غم ہے
تمہارا غم کیا، تمہارا غم تو تمہارا غم ہے
خوشی کے موقعے پہ میری غزلیں کبھی نہ پڑھنا
کہ میرے شعروں میں یار سارے کا سارا غم ہے
نہ چاندنی سے نہ روشنی سے ہے مجھ کو مطلب
تمہاری فرقت میں چاند غم ہے ستارا غم ہے
اپنی ساتھی خرید لائی ہوں
میں اداسی خرید لائی ہوں
کل لٹکنا ہے مجھ کو پنکھے سے
آج رسی خرید لائی ہوں
آنسوؤں میں بھگو کے کھاؤں گی
سوکھی روٹی خرید لائی ہوں
سنو اے نادان لڑکی
اب عشق کی
گلیوں میں
کسی عام سی لڑکی
کے لیے
کوئی شہزادہ
نہیں آتا
ارے ساری کہانی مسئلہ ہے
یہاں راجہ کا رانی مسئلہ ہے
بڑھاپا حل ہے سارے مسئلوں کا
کمینی یہ جوانی مسئلہ ہے
زمیں والو تمہارا دخل کیسا
محبت آسمانی مسئلہ ہے
تیسرا رستہ
محبت میں فقط دو ہی رستے ہوتے ہیں
ایک وہ جو
محبوب کے در تک لے جاتا ہے
اور دوسرا جو
شہرِ خموشاں کی راہ دکھاتا ہے
حکم یہ سب کی سماعت میں اتارا جائے
آپ کے نام سے اب مجھ کو پکارا جائے
دو قبیلوں میں چھڑے جنگ مجھے پانے کو
اور اس میں کوئی سردار بھی مارا جائے
اس نے تلوار اٹھائی تو دعا دی میں نے
وار خالی نہ کبھی دوست! تمہارا جائے