Showing posts with label ناہید بلوچ. Show all posts
Showing posts with label ناہید بلوچ. Show all posts

Tuesday, 11 January 2022

وصیت کوئی کچھ بھی کہے

 وصیت


کوئی کچھ بھی کہے

مگر میں نے لکھ دیا ہے

کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں

اس نابینا فقیر کو لگائی جائیں

جو تمہارے شہر کی ہر گلی میں

Wednesday, 5 January 2022

سن کے سینے میں ترا سانس اٹک سکتا ہے

 سن کے سینے میں تِرا سانس اٹک سکتا ہے

وہ ہے اک مرد محبت سے بھی تھک سکتا ہے

غصہ کرنے کی اجازت ہے فقط بابا کو

تُو مجھے صرف محبت سے ہی تک سکتا ہے

تجھ سے بچھڑی تو یہ دنیا کہاں مرنے دے گی

تیرا کیا ہے تُو تو پنکھے سے لٹک سکتا ہے

Monday, 16 August 2021

تمہارے جیسے محبت پہ بات کرتے ہیں

 تمہارے جیسے محبت پہ بات کرتے ہیں

لو کیسے کیسے محبت پہ بات کرتے ہیں

یہ جن کو بات بھی کرنے کا ڈھب نہیں آتا

یہ ایسے ویسے محبت پہ بات کرتے ہیں

کہیں جو ذکر کوئی چھیڑ دے محبت کا

تو جیسے تیسے محبت پہ بات کرتے ہیں

Wednesday, 30 June 2021

تمہارے دل پہ کسی اختیار کا سوچیں

 تمہارے دل پہ کسی اختیار کا سوچیں

نہیں مجال کہ ہم تم سے پیار کا سوچیں

ہم ایسی لڑکیوں کا مسئلہ تو عزت ہے

ہمارا حق نہیں بنتا؛ کہ پیار کا سوچیں

کہ پھول پھول سبھی موسموں کو کر ڈالیں

ہمارے بس میں ہے؛ آؤ بہار کا سوچیں

Tuesday, 29 June 2021

ہمیں شہروں سے ڈر لگتا ہے ہم دیہاتی لوگ ہیں

 ہم دیہاتی لوگ ہیں


ہم دیہاتی لوگ ہیں

کھیت میں لگے اس گنے کی طرح

جسے تم اپنے سخت ہاتھوں سے توڑ کر

اپنے دانتوں سے چھیل بھی دو

مگر وہ تب بھی تمہارا منہ مٹھاس سے بھر دے گا

Tuesday, 11 May 2021

جاتے ہوئے نشانی میں صدمات چھوڑ کر

 جاتے ہوئے نشانی میں صدمات چھوڑ کر

جاتا ہے کوئی یوں بھی بھلا ساتھ چھوڑ کر

تُو نے تو اسی ہاتھ کو تھاما تھا شوق سے

تو اب کہاں چلا ہے مِرا ہاتھ چھوڑ کر

ڈر ہے کہ میں بھی ورثے میں یہ چھوڑ جاؤں گی

ماں بھی مَری تھی ایسے ہی حالات چھوڑ کر

Friday, 27 November 2020

ظلم چکھا یا بے حسی چکھی

 ظلم چکھا یا بے حسی چکھی

کیا کبھی تم نے بے بسی چکھی 

موت ملتی رہی پیالہ بھر 

ایک ہی گھونٹ زندگی چکھی 

چاند جب شاخ پہ اتر آیا 

تب درختوں نے چاندنی چکھی 

نیند ذرا سی جب بھی آنے لگتی ہے

 نیند ذرا سی جب بھی آنے لگتی ہے

یاد تمہاری شور مچانے لگتی ہے

ساتھ ملاتے ہیں آواز پرندے بھی

ہوا مجھے جب گیت سنانے لگتی ہے

دیکھ کے کھڑکی سے بارش کو پاگل لڑکی

آج بھی دو کپ چائے بنانے لگتی ہے

Tuesday, 24 November 2020

اب کتابوں میں شاعری کے نئے معانی پڑھا کریں گے

 کہ اب کتابوں میں شاعری کے نئے معانی پڑھا کریں گے

مجھے خوشی ہے ہمارے بچے عمیر نجمی پڑھا کریں گے

ابھی محبت کو پڑھنے والے اسے محبت ہی پڑھ رہے ہیں

کئی زمانوں کے بعد اس کو بھی لوگ غلطی پڑھا کریں گے

یہ لکھنے والوں کا المیہ ہے کہ لوگ سارے ہی پڑھنے والے

لباس مہنگا خرید لیں گے، 🕮 کتاب سستی پڑھا کریں گے

Monday, 23 November 2020

میں مانتی نہیں ایسی کسی غلامی کو

 میں مانتی نہیں ایسی کسی غلامی کو

جہیز لانا پڑے رشتے کی سلامی کو

وہ بھی اوروں کی طرح احترام کرتا ہے

خدایا! آگ لگے ایسی نیک نامی کو 

پتہ چلے گا تجھے عشق کیا بلا ہے میاں

تُو پڑھ کے دیکھ کبھی رومی اور جامی کو

Sunday, 22 November 2020

ہمارے دل میں تو ساری دنیا کا یارا غم ہے

 ہمارے دل میں تو ساری دنیا کا یارا غم ہے

تمہارا غم کیا، تمہارا غم تو تمہارا غم ہے

خوشی کے موقعے پہ میری غزلیں کبھی نہ پڑھنا

کہ میرے شعروں میں یار سارے کا سارا غم ہے

نہ چاندنی سے نہ روشنی سے ہے مجھ کو مطلب

تمہاری فرقت میں چاند غم ہے ستارا غم ہے

اپنی ساتھی خرید لائی ہوں

 اپنی ساتھی خرید لائی ہوں

میں اداسی خرید لائی ہوں

کل لٹکنا ہے مجھ کو پنکھے سے

آج رسی خرید لائی ہوں

آنسوؤں میں بھگو کے کھاؤں گی

سوکھی روٹی خرید لائی ہوں

Saturday, 21 November 2020

سنو اب ایسا نہیں ہوتا

 سنو اے نادان لڑکی

اب عشق کی

گلیوں میں

کسی عام سی لڑکی

کے لیے

کوئی شہزادہ 

نہیں آتا

یہاں راجہ کا رانی مسئلہ ہے

 ارے ساری کہانی مسئلہ ہے

یہاں راجہ کا رانی مسئلہ ہے

بڑھاپا حل ہے سارے مسئلوں کا

کمینی یہ جوانی مسئلہ ہے

زمیں والو تمہارا دخل کیسا

محبت آسمانی مسئلہ ہے

Friday, 20 November 2020

محبت میں فقط دو ہی رستے ہوتے ہیں

 تیسرا رستہ


محبت میں فقط دو ہی رستے ہوتے ہیں

ایک وہ جو

محبوب کے در تک لے جاتا ہے

اور دوسرا جو

شہرِ خموشاں کی راہ دکھاتا ہے

Thursday, 12 November 2020

حکم یہ سب کی سماعت میں اتارا جائے

 حکم یہ سب کی سماعت میں اتارا جائے

آپ کے نام سے اب مجھ کو پکارا جائے

دو قبیلوں میں چھڑے جنگ مجھے پانے کو

اور اس میں کوئی سردار بھی مارا جائے

اس نے تلوار اٹھائی تو دعا دی میں نے

وار خالی نہ کبھی دوست! تمہارا جائے