Tuesday, 11 May 2021

جاتے ہوئے نشانی میں صدمات چھوڑ کر

 جاتے ہوئے نشانی میں صدمات چھوڑ کر

جاتا ہے کوئی یوں بھی بھلا ساتھ چھوڑ کر

تُو نے تو اسی ہاتھ کو تھاما تھا شوق سے

تو اب کہاں چلا ہے مِرا ہاتھ چھوڑ کر

ڈر ہے کہ میں بھی ورثے میں یہ چھوڑ جاؤں گی

ماں بھی مَری تھی ایسے ہی حالات چھوڑ کر

کیسے کروں گُزارا تِری دید کے بغیر

جاتا ہے کب فقیر بھی خیرات چھوڑ کر

خالی پیالی میز پہ اوندھی پڑی رہی

وہ اُٹھ گیا ادھوری ملاقات چھوڑ کر

ان کے لیے بھی شاعرو اک نظم تو لکھو

بیٹھے ہیں دفتروں میں جو برسات چھوڑ کر

ہیں تتلیاں بھی حُسن پرستی میں مُبتلا

پھُولوں کو چُومتی ہیں ہرے پات چھوڑ کر


ناہید اختر بلوچ

No comments:

Post a Comment