تُو جو آیا تو لگا تھا کہ سہارا بنے گا
کیا خبر تھی کہ وہی روگ دوبارہ بنے گا
میں نے اے شخص تِری چاہ میں جلدی کی تھی
دل تو پہلے سے یہ کہتا تھا خسارا بنے گا
خار بن کر مِری آنکھوں میں جو چُبھتا ہے وہ اشک
تیری پلکوں سے گرے گا تو ستارا بنے گا
خوش گمانی ہے تِری اے مِرے دل سوچ ذرا
وہ جو اپنا نہیں بنتا وہ ہمارا بنے گا ؟
فرخ عدیل
No comments:
Post a Comment