Tuesday, 11 May 2021

کس لیے وقت سے ہم تھوڑی سی مہلت مانگیں

 کس لیے وقت سے ہم تھوڑی سی مہلت مانگیں

اتنے کم ظرف نہیں کوئی رعایت مانگیں

ملتفت ہو جو کوئی خود تو الگ بات ہے یہ

ہم سے خود دار نہ مر کے بھی محبت مانگیں

دُکھ تو ہو گا ہی انہیں ہم سے بِچھڑ جانے کا

وقتِ رخصت ہے چلو ان سے اجازت مانگیں

پیار و عزت کے سوا ہم کو نہیں کچھ درکار

نہ تو دولت، نہ وجاہت، نہ ہی شہرت مانگیں

کوئِی کر سکتا ہے اب ان پہ بھروسہ کیسے

لوگ جو اپنی وفاداری کی قیمت مانگیں

ساتھ رہ کر بھی رہا تجھ سے ادھورا رشتہ

اب تِرا ساتھ، نہ ہم تیری رفاقت مانگیں

جب اسے خود نہیں ہم جیسے غریبوں کا خیال

حاکمِ شہر سے کیوں کوئی سہولت مانگیں

مل کے بیٹھے نہ کبھی کھُل کے کوئی بات ہوئی

آؤ ہم وقت سے کچھ لمحوں کی فُرصت مانگیں


عذرا ناز

No comments:

Post a Comment