اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں
اک روح تھی ہر آرزوئے پائمال میں
ہر زخم دل ہے عہد محبت کی یادگار
جی چاہتا ہے دیر لگے اندمال میں
وہ بھیڑ ہے کہ ڈھونڈھنا تیرا تو درکنار
خود کھویا جا رہا ہوں ہجوم خیال میں
اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں
اک روح تھی ہر آرزوئے پائمال میں
ہر زخم دل ہے عہد محبت کی یادگار
جی چاہتا ہے دیر لگے اندمال میں
وہ بھیڑ ہے کہ ڈھونڈھنا تیرا تو درکنار
خود کھویا جا رہا ہوں ہجوم خیال میں
کافری میں بھی جو چاہت ہو گی
کچھ تو ایماں کی شباہت ہو گی
حشر ہے وعدۂ فردا تیرا
آج کی رات قیامت ہو گی
پوچھا پھر ہو گی ملاقات کبھی
پھر مرے حال پہ شفقت ہو گی
یوں سبکدوش ہوں جینے کا بھی الزام نہیں
آہ، اتنی بڑی دنیا میں کوئی کام نہیں
میری تحقیق، مرا حسن نظر عام نہیں
کوئی عالم ہو مرے آئینہ میں شام نہیں
اوس دامن پہ ہے آنکھوں میں نمی کی جھلکی
صبح ہونے پہ بھی آسودگئ شام نہیں