Showing posts with label سراج لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label سراج لکھنوی. Show all posts

Wednesday, 8 September 2021

اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں

اے چرخ کاش آگ لگے تیری چال میں 

اک روح تھی ہر آرزوئے پائمال میں 

ہر زخم دل ہے عہد محبت کی یادگار 

جی چاہتا ہے دیر لگے اندمال میں 

وہ بھیڑ ہے کہ ڈھونڈھنا تیرا تو درکنار 

خود کھویا جا رہا ہوں ہجوم خیال میں 

Thursday, 20 May 2021

کافری میں بھی جو چاہت ہو گی

کافری میں بھی جو چاہت ہو گی

کچھ تو ایماں کی شباہت ہو گی

حشر ہے وعدۂ فردا تیرا

آج کی رات قیامت ہو گی

پوچھا پھر ہو گی ملاقات کبھی

پھر مرے حال پہ شفقت ہو گی

Wednesday, 2 December 2020

یوں سبکدوش ہوں جینے کا بھی الزام نہیں

 یوں سبکدوش ہوں جینے کا بھی الزام نہیں

آہ، اتنی بڑی دنیا میں کوئی کام نہیں

میری تحقیق، مرا حسن نظر عام نہیں

کوئی عالم ہو مرے آئینہ میں شام نہیں

اوس دامن پہ ہے آنکھوں میں نمی کی جھلکی

صبح ہونے پہ بھی آسودگئ شام نہیں

Tuesday, 15 September 2020

بے سمجھے بوجھے محبت کی اک کافر نے ایمان لیا

بے سمجھے بوجھے محبت کی اک کافر نے ایمان لیا
اب آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں، کیوں دل کا کہنا مان لیا
ہم فکر میں تھے چھپ کر دیکھیں ان جلووں نے پہچان لیا
جب تک یہ نظر اٹھے اٹھے، ظالم نے پردہ تان لیا
کیوں حسن گراں مایہ یہ کیا تیرے جلوے اتنے ارزاں
ایک ایک خدا اپنا اپنا، جس نے جسے چاہا مان لیا

Monday, 14 September 2020

نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاط کلام ہے

نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاط کلام ہے
مِرا ذوق اتنا بلند ہے جہاں آرزو بھی حرام ہے
فقط ایک رشتۂ‌ مشترک خلش سکوت کلام ہے
یوں ہی اک زمانہ گزر گیا نہ پیام ہے نہ سلام ہے
جو چراغ اشک نصیب تھے وہی صبر کر کے جلا دئیے
وہی کافرانہ سیاہیاں یہ وہی بجھی ہوئی شام ہے

Sunday, 13 September 2020

خیال دوست نہ میں یاد یار میں گم ہوں

خیال دوست نہ میں یاد یار میں گم ہوں
خود اپنی فکر و نظر کی بہار میں گم ہوں
خوشی سے جبر زدہ اختیار میں گم ہوں
عجیب دل کشیٔ ناگوار میں گم ہوں
خود اپنی یاد فراموش کار میں گم ہوں
بہانہ یہ ہے، تِرے انتظار میں گم ہوں

فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے

فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے
فکر دنیا بھی غم یار ہوئی جاتی ہے
کتنا نازک ہے خدا رکھے محبت کا مزاج
اب تسلی بھی دل آزار ہوئی جاتی ہے
جب سے چھینی ہے تِری یاد نے نیند آنکھوں کی
دل کی جو حس ہے وہ بیدار ہوئی جاتی ہے

Saturday, 12 September 2020

خراب محبت ہوں نادار ہو کر

خراب محبت ہوں نادار ہو کر
خریدی ہے جنت گنہگار ہو کر
تِرے جلوۂ حسن سے چار ہو کر
نظر رہ گئی جیسے بے کار ہو کر
یہ شُہرے ہیں کس کی مسیحائیوں کے
چلو، ہم بھی دیکھیں گے بیمار ہو کر

عجب صورت سے دل گھبرا رہا ہے

عجب صورت سے دل گھبرا رہا ہے
ہنسی کے ساتھ، رونا آ رہا ہے
مجھے دل سے بھلایا جا رہا ہے
پسینے پر پسینا آ رہا ہے
مروت شرط ہے اے یاد جاناں
تمناؤں کا جی گھبرا رہا ہے

Sunday, 26 November 2017

ایماں کی نمائش ہے سجدے ہیں کہ افسانے

ایماں کی نمائش ہے سجدے ہیں کہ افسانے 
ہیں چاند جبینوں پر اور ذہن میں بت خانے 
کچھ عقل کے متوالے کچھ عشق کے دیوانے 
پرواز کہاں تک ہے کس کی یہ خدا جانے 
کم ظرف کی نیت کیا پگھلا ہوا لوہا ہے 
بھر بھر کے چھلکتے ہیں اکثر یہی پیمانے 

Thursday, 20 October 2016

ہاں ساقی پھر آنکھ ملانا رات گزرنے والی ہے

ہاں ساقی! پھر آنکھ ملانا، رات گزرنے والی ہے
جانے کب پلٹے یہ زمانا، رات گزرنے والی ہے
اب کچھ سننا ہے نہ سنانا، رات گزرنے والی ہے
ختم ہے اب بے کہے فسانا، رات گزرنے والی ہے
جلدی کیا ہے برقِ تبسم! دھواں بنے گا خود آنسو
دن ہو لے، پھر آگ لگانا، رات گزرنے والی ہے

یاد آتا ہے رہ کر پھر وہی زمانہ ساقی کا

یاد آتا ہے رہ کر، پھر وہی زمانا ساقی کا
میرے قصدِ توبہ پر، پہروں سمجھانا ساقی کا
پہلے پہل وہ ساغرِ بر کف ہاتھ بڑھانا ساقی کا
آنکھ ملانے کی کوشش میں شرما جانا ساقی کا
وقت کا رنگیں آئینہ ہے یا مۓ خانہ ساقی کا
رات کا چاند اور دن کا سورج ہر پیمانا ساقی کا

لدی جو پھولوں سے تھی شاخ آشیانے کی

لدی جو پھولوں سے تھی شاخ آشیانے کی
وہی ہوا،۔ کہ نظر لگ گئی زمانے کی
زمیں! دہائی ہے، اے آسماں! دہائی ہے 
مٹے ہوؤں کو بھی کوشش ہے اب مٹانے کی
نصیحتیں تِری ناصح! مِرے سر آنکھوں پر 
جو خود کسی کو ضرورت ہو دل لگانے کی

سب یہی کہتے ہیں مجھ کو ترا سودائی ہے

سب یہی کہتے ہیں مجھ کو تِرا سودائی ہے
اب مِرا ہوش میں آنا تِری رسوائی ہے
گرمئ عشق مسلّم،۔ مگر اپنی حد میں
آج تک حسن کے دامن پہ بھی آنچ آئی ہے
کچھ تو کوچہ تِرا جنت کا نمونہ ہے بھی
کچھ مِرے حسنِ تخیل کی بھی رعنائی ہے