بے سمجھے بوجھے محبت کی اک کافر نے ایمان لیا
اب آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں، کیوں دل کا کہنا مان لیا
ہم فکر میں تھے چھپ کر دیکھیں ان جلووں نے پہچان لیا
جب تک یہ نظر اٹھے اٹھے، ظالم نے پردہ تان لیا
کیوں حسن گراں مایہ یہ کیا تیرے جلوے اتنے ارزاں
جس پر صدقے دونوں عالم اس اشک کی قیمت کیا کہئے
پلکوں پر اپنی تول چکے، دامن میں کسی کے چھان لیا
یہ کوہ گراں ہلتے ہیں کہیں اور پھر مضبوط ارادوں کے
پتھر کی لکیر ہے اے ناصح! جو ہم نے دل میں ٹھان لیا
جلوہ کہ فریب جلوہ تھا، جو ہو تصویر مکمل تھی
اک شور اٹھا ہر جانب سے پہچان لیا، پہچان لیا
ہونٹوں پہ بناوٹ کی وہ ہنسی فریاد کا عالم سانسوں میں
ظالم کی محبت چھپ نہ سکی، جس نے دیکھا پہچان لیا
برسوں الجھے ارباب خرد یہ ایک گرہ اب تک نہ کھلی
سر آپ ہی جھک گئے سجدے میں، گھبرا کے خدا کو مان لیا
مرنا ہوا سراج کہ جینا ہو بے منت غیر ہو جو کچھ ہو
کیا رہ گئی، خنجرِ قاتل کا گردن پہ اگر احسان لیا
سراج لکھنوی
No comments:
Post a Comment