Tuesday, 15 September 2020

بے جا تکلفات میں کچھ بھی نہیں بچا

بے جا تکلفات میں کچھ بھی نہیں بچا
حد درجہ احتیاط میں کچھ بھی نہیں بچا 
اب تم ہمارے ہاتھ کو آئے ہو تھامنے 
اب تو ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچا 
زندہ ہوں ایک خواب اور اک آس کے طفیل 
ورنہ تو اس حیات میں کچھ بھی نہیں بچا 
ملبے سمیٹنے میں گزاری تمام عمر 
معمول حادثات میں کچھ بھی نہیں بچا 
اب کی تو بات اور ہے ورنہ بچھڑتے وقت 
لگتا تھا کائنات میں کچھ بھی نہیں بچا 

ساجد رحیم

No comments:

Post a Comment