بے جا تکلفات میں کچھ بھی نہیں بچا
حد درجہ احتیاط میں کچھ بھی نہیں بچا
اب تم ہمارے ہاتھ کو آئے ہو تھامنے
اب تو ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچا
زندہ ہوں ایک خواب اور اک آس کے طفیل
ملبے سمیٹنے میں گزاری تمام عمر
معمول حادثات میں کچھ بھی نہیں بچا
اب کی تو بات اور ہے ورنہ بچھڑتے وقت
لگتا تھا کائنات میں کچھ بھی نہیں بچا
ساجد رحیم
No comments:
Post a Comment