Showing posts with label زبیر شفائی. Show all posts
Showing posts with label زبیر شفائی. Show all posts

Thursday, 24 February 2022

قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا

 قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا

چراغ بجھنے کے بعد اجالا کہاں سے آیا

ندی میں وہ اور چاند ہیں ایک ساتھ روشن

زمیں پر آسمان والا کہاں سے آیا

یہ غنچہ غنچہ سیاہ بھونرے کی بوسہ خواہی

سوادِ گلشن میں ہم نوالا کہاں سے آیا

Wednesday, 26 January 2022

جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا

 جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا

وہ آئینہ ہے تو اپنی صفائی کیوں نہیں دیتا

دکھائی دے رہے ہیں سامنے والوں کے ہلتے لب

مگر وہ کہہ رہے ہیں کیا سنائی کیوں نہیں دیتا

سمندر بھی تِری آنکھوں میں صحرا کی طرح گم ہے

یہاں وہ تنگئ جا کی دہائی کیوں نہیں دیتا

Friday, 24 December 2021

سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا

 سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا

ایک ہی جھونکا پلٹ کر بار بار آتا رہا

پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اچانک اڑ گئی

یہ خزانہ آخر اپنے ہاتھ سے جاتا رہا

شمع کی لو پر ہوا نے ہونٹ اپنے رکھ دئیے

وجد میں آ کر دھواں تا دیر لہراتا رہا

Thursday, 30 September 2021

اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا

 اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا

ہمیشہ کے لیے یہ ہاتھ اب پتوار پر رکھنا

وصالی موسموں کی بازیابی چاہنے والو

بجائے شاخِ گل دستِ طلب رخسار پر رکھنا

سرِ تخلیقِ تن کب اختراعی دھن نکل آئے

ذرا یہ ہونٹ تم بربط کے ٹوٹے تار پر رکھنا

Sunday, 27 June 2021

گھر نہیں بستی نہیں شور فغاں چاروں طرف ہے

 گھر نہیں بستی نہیں شور فغاں چاروں طرف ہے

ایک چوتھائی زمیں پر آسماں چاروں طرف ہے

دوڑتے ہیں رات دن تین آنکھ بارہ ہاتھ والے

سرد سناٹے میں آوازِ سگاں چاروں طرف ہے

لانچر، راکٹ، کلاشنکوف، بارودی سرنگیں

خون کا دریا پہاڑوں میں رواں چاروں طرف ہے