قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا
چراغ بجھنے کے بعد اجالا کہاں سے آیا
ندی میں وہ اور چاند ہیں ایک ساتھ روشن
زمیں پر آسمان والا کہاں سے آیا
یہ غنچہ غنچہ سیاہ بھونرے کی بوسہ خواہی
سوادِ گلشن میں ہم نوالا کہاں سے آیا
قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا
چراغ بجھنے کے بعد اجالا کہاں سے آیا
ندی میں وہ اور چاند ہیں ایک ساتھ روشن
زمیں پر آسمان والا کہاں سے آیا
یہ غنچہ غنچہ سیاہ بھونرے کی بوسہ خواہی
سوادِ گلشن میں ہم نوالا کہاں سے آیا
جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا
وہ آئینہ ہے تو اپنی صفائی کیوں نہیں دیتا
دکھائی دے رہے ہیں سامنے والوں کے ہلتے لب
مگر وہ کہہ رہے ہیں کیا سنائی کیوں نہیں دیتا
سمندر بھی تِری آنکھوں میں صحرا کی طرح گم ہے
یہاں وہ تنگئ جا کی دہائی کیوں نہیں دیتا
سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا
ایک ہی جھونکا پلٹ کر بار بار آتا رہا
پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اچانک اڑ گئی
یہ خزانہ آخر اپنے ہاتھ سے جاتا رہا
شمع کی لو پر ہوا نے ہونٹ اپنے رکھ دئیے
وجد میں آ کر دھواں تا دیر لہراتا رہا
اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا
ہمیشہ کے لیے یہ ہاتھ اب پتوار پر رکھنا
وصالی موسموں کی بازیابی چاہنے والو
بجائے شاخِ گل دستِ طلب رخسار پر رکھنا
سرِ تخلیقِ تن کب اختراعی دھن نکل آئے
ذرا یہ ہونٹ تم بربط کے ٹوٹے تار پر رکھنا
گھر نہیں بستی نہیں شور فغاں چاروں طرف ہے
ایک چوتھائی زمیں پر آسماں چاروں طرف ہے
دوڑتے ہیں رات دن تین آنکھ بارہ ہاتھ والے
سرد سناٹے میں آوازِ سگاں چاروں طرف ہے
لانچر، راکٹ، کلاشنکوف، بارودی سرنگیں
خون کا دریا پہاڑوں میں رواں چاروں طرف ہے