Friday, 24 December 2021

سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا

 سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا

ایک ہی جھونکا پلٹ کر بار بار آتا رہا

پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اچانک اڑ گئی

یہ خزانہ آخر اپنے ہاتھ سے جاتا رہا

شمع کی لو پر ہوا نے ہونٹ اپنے رکھ دئیے

وجد میں آ کر دھواں تا دیر لہراتا رہا

اس تمنا میں کہ اہلِ دل مجھے تجھ سا کہیں

تیرا اک اک رنگ، اک اک ڈھنگ اپناتا رہا

یوں کہ دوہری زندگی جینے کی عادت تھی مجھے

خود کو سینے سے لگاتا، اور ٹھکراتا رہا

در دریچے بند اور آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے

میں بھرے گھر میں گُم اپنے آپ کو پاتا رہا


زبیر شفائی

میکش کانپوری

No comments:

Post a Comment